63

کلبھوشن کے سامنے والدہ اور بیوی کو پاکستان نے بیوہ کے طور پر پیش کیا ، بھارتی وزیر خارجہ

(سجاد راجپوت) بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے کہا کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادو سے اس کی والدہ اور بیوی سے ملاقات کے درمیان پاکستان نے جو رویہ اپنایا اس کی ہم مذمت کرتے ہیں . ​بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور ماں کا منگل سوتر، بندی اور چوڑیاں اتروا کر ان کی بیواﺅں کی طرح کلبھوشن سے ملاقات کرائی​ ۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں جاسوس کلبھوشن جادھو کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو جان بوجھ کر ہراساں کیا گیا، یہ ایسا تضحیک آمیز رویہ تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ’میں نے آج صبح کلبھوشن کی والدہ اوانتی سے ملاقات کی اور ان سے احوال پوچھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، کلبھوشن کی ماں نے بتایا کہ کیسے پاکستان نے اس کی ’سہاگ کی نشانی ‘ ختم کرائی، کلبھوشن کی والدہ نے پاکستانیوں سے روتے ہوئے درخواست کی کہ انہوں نے کبھی بھی منگل سوتر نہیں اتارا لیکن وہ زبردستی اتروایا گیا‘۔ سشما سوراج نے کہا کہ کلبھوشن کی والدہ نے انہیں بتایا کہ ’جب میں کلبھوشن سے ملی تو اس نے سب سے پہلے اپنے باپ کے بارے میں پوچھا کیونکہ اسے میرے گلے میں منگل سوتر اور ماتھے پر بندی نظر نہیں آرہی تھی، میں نے زندگی میں کبھی ساڑھی نہیں اتاری لیکن پاکستان نے مجھے کرتا شلوار پہننے پر مجبور کیا‘۔کلبھوشن جادھو کی بیوی کے جوتوں کے معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سشما سوراج نے اسے پاکستان کا پراپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ چیتانکل وہی جوتے پہن کر 2 مختلف فلائٹس کے ذریعے پاکستان گئی، اس دوران ایئر پورٹس کی انتہائی سخت سکیورٹی نے اس کے جوتوں میں کوئی کیمرہ یا ریکارڈنگ ڈیوائس نہیں پکڑی لیکن پاکستان نے جھوٹا الزام لگادیا۔ ’ اب وہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں، ہمیں پہلے ہی پتہ تھا کہ وہ ایسا کریں گے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں