51

اسرایئل بیت المقدس میں تعمیر کرے گا ٹرمپ اسٹیشن

(سجاد راجپوت) بیت المقدس کے خلاف ایک نئی سازش ہونے جارہی ہے وہ یہ کہ اسرائیل کے وزیرِ ٹرانسپورٹ یروشلم کے قدیم شہر تلے زیرِ زمین ریلوے ٹریک بنانا چاہتے ہیں اور مغربی دیوار کے قریب اسٹیشن تعمیر کیا جائے گا جس کو ” ٹرمپ سٹیشن’ کا نام دیا جائے گا .

یسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حوالے سے اعزاز دینا چاہتے ہیں
مغربی دیوار وہ مقدس ترین مقام ہے جہاں یہودیوں کو عبادت کی اجازت ہے۔

مجوزہ ٹرین ٹریک اور اسٹیشن تیل ابیب سے آنے والی ہائی سپیڈ ٹرین سے منسلک ہوگا اور آئندہ سال اس کا افتتاح متوقع ہے۔
واضح رہے کہ یروشلم میں اس کمپاؤنڈ کو مسلمان حرم الشریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانتے ہیں اس کمپاؤنڈ کی مغربی دیوار کے باہر اکثر یہودیوں کی عبادت میں مصروف تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں اس کے زیرِ زمین کام کرنے پر فلسطینیوں نے احتجاج کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے یروشلم کے قدیم شہر اور اس کمپاؤنڈ کو عالمی ورثہ قرار دیا ہوا ہے۔
ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ تیل ابیب کی ٹرین لائن میں یہ اضافہ وزارتِ ٹرانسپورٹ کا اہم قومی پروجیکٹ ہے۔

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عالمی برادری نے اس فیصلے پر منفی ردِ عمل ظاہر کیا۔
گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔
قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ ‘باطل اور کالعدم’ ہے اس لیے منسوخ کیا جائے۔

یہ دنیا کا وہ واحد شہر ہے جسے یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبرحضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی۔

مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے۔
مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہر میں واقع مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی
یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور مسیحی ایک ہزار برس تک اس شہر پر قبضے کے لیے آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔
فلسطینی اور اسرائیلی تنازعے کے مرکز میں قدیم یروشلم شہر ہی ہے یہاں کے حالات میں معمولی سی تبدیلی بھی کئی بار تشدد اور بڑی کشیدگی کا باعث بن جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یروشلم میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اہم ہو جاتا ہے۔

یہ شہر نہ صرف مذہبی طور پر اہم ہے بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔
زیادہ تر اسرائیلی یروشلم کو غیر منقسم اور بلا شرکت غیرے اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اسرائیل کا ایک ملک کے طور پر سنہ 1948 میں قیام عمل میں آیا تھا اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ کو شہر کے مغربی حصے میں قائم کیا گیا تھا جبکہ سنہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر بھی قبضہ کر لیا۔

اس کے ساتھ قدیمی شہر بھی اسرائیل کے قبضے میں آ گیا لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
یروشلم پر اسرائیل کی مکمل حاکمیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا ہے جس پر اسرائیلی رہنما اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
فلسطینیوں کا موقف اس کے برعکس ہے۔ وہ مشرقی یروشلم کو مستقبل کا اپنا دارالحکومت کہتے ہیں۔ اور اسرائیلی اور فلسطینی کے درمیان امن مذاکرات میں اس پر رضامندی کی بات بھی شامل ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں