59

بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کا ڈراما کیا : ڈی جی آئی ایس پی آر

(سجاد راجپوت) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کو بھارت نے سرجیکل کا نام دے کر ڈراما کیا جس میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوئے تھے . ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی دہشتگرد تنظیم کا کوئی ٹھکانہ نہیں، پاک افغان بارڈر پر ایف سی کے نئے اور زیادہ دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ خطے میں امن کی راہ کو ہموار کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ایل او سی کا معائنہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ قوموں کی زندگی میں چیلنجز آتے رہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم ایک بار پھر ایسے چیلنج سے باہر نکل آئیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے ، ابھی خطرات ٹلے نہیں ہیں لیکن کم ضرور ہوئے ہیں۔ ہماری کوششوں سے خطے میں امن ہوا تو دہشتگردوں نے بلوچستان کا رخ کر لیا جس سے امن کا عمل متاثر ہوا ۔ میجر جنرل آصف غفور نے حال ہی میں امریکا کی جانب سے دی گئی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم کس طرح کے اتحادی ہیں ہمیں نوٹس دیئے جارہے ہیں”ہم اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے اور پاکستان کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے’۔ ہم نے دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا اور اپنی سرزمین میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا بلا تفریق صفایا کیا، یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن قوم اور فوج نے یک جان ہوکر یہ فریضہ انجام دیا، لیکن خطرات ابھی ٹلے نہیں’اور ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم نے اپنے مفاد میں لڑی، کسی ملک کے کہنے پر ڈو مور نہیں . انہوں نے بتایا کہ خوشحال بلوچستان کا ڈھانچہ چار نکات پر مشتمل ہے: بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانا، منصوبوں کی فوج کی سیکیورٹی دینا، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا اور مسترد کی گئی قوم پرست قوتوں کو بیرون ملک ایجنڈے سے علیحدہ کرنا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوشحال بلوچستان پروگرام کی تجویز پیش کی، جس کا ڈھانچہ 4 نکات پر مشتمل ہے۔خوشحال بلوچستان پروگرام میں60ارب روپے کے پراجیکٹس پلان کیے گئے ہیں۔ فاٹا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فاٹا میں آپریشن کی وجہ سےجانےوالی آبادی کودوبارہ بسایاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کے نوجوان کو پہلے تعلیم دی ،آرمی کے تحت ہاسٹلز میں رکھا۔فاٹا کے نوجوانوں کو فوج میں کمیشن بھی دیا گیا ہے۔ سی پیک کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سی پیک کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ سی پیک کی سیکیورٹی کیلئے خصوصی فورس بنائی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سی پیک ملک کے مستقبل کیلئے بہت اہم ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جاسوس کو انسانی ہمدردی پر اہلخانہ سے ملایا۔ ہم اچھا کام کریں تو بھی بھارت واویلا کرتا ہے ۔کلبھوشن سے والدہ، اہلیہ کی ملاقات پر بھارت کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کے معاملے پر کوئی دباؤ نہیں اگر دباؤ ہوتا تو قونصلر رسائی دیتے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے بیان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وفاقی وزیر کا آرمی چیف کے متعلق بیان غیر ذمہ دارانہ تھا۔سعد رفیق کے بیان پر تشویش ہے.انہوں نے کہا خواجہ سعد رفیق کا بیان آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کو عوام کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ہمارے ادارے جو کام کر رہے ہیں ان کی پذیرائی بھی کی جانی چاہیئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں