70

بھارت کی جنوبی ریاستوں پر مشتمل ایک نیا ملک بنے گا : بھارتی رکن اسمبلی

دہلی(سجاد راجپوت)جنوبی بھارت کی سیاسی پارٹی تیلگو دیشم پارٹی کے رکن اسمبلی ایم مرلی موہن کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب جنوبی بھارت ایک الگ ملک ہوگا۔مرلی موہن کا ایک ویڈیو جاری ہوا ہے جس میں وہ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ” جنوبی بھارت کو یہ احساس ہے کہ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے، جنوبی بھارت کی پانچ ریاستوں کو الگ ملک بنانے کی آزادی کے لیے مجبور نہ کیا جائے”۔پاور پلس نیوز کے مطابق ویڈیو 12 فروری کو راجامندری میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کا ہے لیکن تیلگو دیشم پارٹی کے دو قانون سازوں کے بی جے پی سے استعفی کے بعد یہ ویڈیو منظر عام پر آیا ہے۔

انھوں نے ویڈیو میں کہا کہ ” ہم دیگر ریاستوں سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، پھر کیوں مرکزی حکومت ہم سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے، ہر زاویے سے ہم کو پسماندہ کیا جاتا ہے، اب اگر مرکزی حکومت کا رویہ تبدیل نہیں ہوگا تو ہم پانچ جنوبی ریاستیں متحد ہو کر الگ ملک کا مطالبہ کریں گے”۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے بیان کی کافی مذمت ہورہی ہے، متعدد صارفین نے رکن اسمبلی کے نظریہ پر سوال کیا ہے۔حتی کہ کچھ صارفین نے ریاستی وزیراعلی چندربابو نائیڈو سے رکن اسمبلی کو معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا وہ ان کی بات سے اتفاق رکھتے ہیں۔گزشتہ ماہ اداکار سے سیاست داں بنے پون کلیان نے ریاستوں کے درمیان ٹیکس آمدنی کا اشتراک آبادی کے تناسب سے کرنے کے متعلق سوال کیا تھا اور کہا تھا کہ کیا مرکزی حکومت اپنے مفاد کے خلاف ‘جنوبی ریاستوں کی ترقی’ کے لیے ٹیکس کا استعمال کیا تھا۔
جنوری میں ایک پریس کانفرنس میں پون کلیان نے کہا تھا کہ ” ملک جنوب اور شمال میں نہیں بلکہ سیاسی حربے میں تقسیم ہے۔ جبکہ ہر جگہ ایک ہی قانون نافذ ہونا چاہیے”۔انھوں نے کہا کہ ” جنوبی ریاست میں لوگ سوچتے ہیں کہ دہلی میں ایک اعلی سیاسی پارٹی ہے جو پورے ملک پر راج کرنا چاہتی ہے،اور اترپردیش میں اکثریت ہونے کے باعث وہ باغی رویہ اختیار کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں