71

مشرقی غوطہ میں قتل عام کا سلسلہ جاری، تازہ فضائی کاروائی میں 42 شہید

غوطہ(سجاد راجپوت)شام کے مشرقی غوطہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود شامی افواج قتل عام میں مصروف ہے، دوما میں فوج کی تازہ بمباری میں 42 افراد ہلاک اور بے شمار زخمی ہوئے۔مشرقی غوطہ کے دوما علاقے میں سرکاری افواج نے مسلسل بمباری کی جس میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور بے شمار زخمی ہوئے۔شامی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق شامی افواج نے مدیرہ ٹاؤن کو سیل کردیا جس کے باعث مشرقی غوطہ کے دیگر علاقے اس سے منقطع ہوگئے۔
الجزیرہ کی ایک سماجی کارکن نے کہا کہ ’’ اتوار کے دن شامی جنگی طیاروں نے غوطہ کے تمام علاقوں میں مسلسل بمباری کی ۔گذشتہ روز شامی افواج نے مشرقی دمشق سے 10 کلو میٹر دور واقع مسربہ ٹاؤن کو قبضے میں لیتے ہوئے دوما کو چاروں اطراف سے گھیر لیاتھا۔اقوام متحدہ کی ایک تنظیم نے تازہ رپورٹ میں کہا کہ ’’ مشرقی غوطہ میں چار لاکھ سے زائد لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں ۔امریکہ نے غوطہ میں قتل عام پر شامی حکومت اور روس پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے 30 روزہ جنگ بندی کی قرار داد کی مخالفت کرنے کا الزام عائد کیاتھا۔امریکہ نے کہا تھاکہ روس ’’جھوٹے اور بے بنیاد مخالف دہشت گردی آپریشن‘‘ کے نام پر بے قصور عام شہریوں کو ہلاک کررہا ہے‘‘۔شام کے مشرق الغوطۃ میں 30 دنوں کے لیے جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود لگاتار زبردست حملے جاری ہیں جس کے باعث دارالحکومت دمشق اور اس کے اطراف انتہا پسند تنطیموں کی گرفت والے علاقوں میں عوام کو بدترین انسانی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔فروری کے آخری ہفتے سے جاری شامی افواج کے قتل عام، بمباری کی وجہ سے اب تک 1000 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔اس خانہ جنگی میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں افراد کھانے پینے اور دیگر بنیادی چیزوں سے محروم ہیں، جنگ میں زخمی ہونے والے افراد طبی امداد کے شدت سے منتظر ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ شامی فورسز نے طبی امداد پہنچانے والی ایجنسیوں کو روک دیا تھا اور اس صورت حال نے جنگ سے متاثرہ افراد کی مشکلات میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں