93

پاکستانی حکومت کی امداد سے طالبان تیار ہونے کا انکشاف

نیویارک(سجاد راجپوت) ’دارالعلوم حقانیہ‘ کا دینی مدرسہ، جو شمال مغربی پاکستان میں اکوڑا خٹک کے مقام پر واقع ہے، قدامت پسند اسلام کی تعلیمات اور افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کی ایک نسل کو تعلیم دینے کا شہرہ رکھتی ہے، جو پاکستانی طالبان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔حقانیہ کے وسیع و عریض کیمپس میں سفید ٹوپیاں پہنے داڑھی والے تقریباً 3000 نوجوان مرد تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت، پشاور سے تقریباً 50کلومیٹر پر واقع ہے، جو مقام اسلام آباد کے قومی دارالحکومت کے مغرب میں 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔مدرسے کی تعلیمات کی جڑیں سنی دیوبندی تحریک سے جا کر ملتی ہیں، جو بھارت میں 19 صدی کے اواخر میں برطانوی سامراج کے خلاف منظر عام پر آئی۔ یہ تحریک وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ پُرتشدد جہاد میں حصہ لیں، جس کے نتیجے میں مدرسے کو بُری شہرت حاصل ہے۔بیلفاسٹ میں واقع ’کوئینز یونیورسٹی‘ میں افغانستان اور پاکستان سے متعلق ماہر، مائیکل سیمپل نے کہا ہے کہ ’’فیکلٹی، طالب علم اور مدرسے سے فارغ التحصیل افراد کا متعدد شدت پسند گروپوں سے قریبی تعلق ہے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’شاید افغان طالبان کے اس سے سب سے زیادہ روابط ہیں، جو باقاعدہ طور پر نوجوان گریجوئیٹس کی بھرتی کرتے ہیں‘‘۔مائیکل سیمپل نے کہا کہ ’’یہ کوئی خاص مخفی سرگرمی نہیں ہے۔ ’بلو چپ‘ کے انداز میں بھرتی کی جاتی ہے، جس کے لیے کمپنیاں ’گریجوئیٹ بھرتیوں کے میلے‘ منعقد کرتی ہیں‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں