81

قطر امریکیوں کی روس اور ایران سے بھی زیادہ خطرناک جاسوسی کررہا ہے: رپورٹ

نیویارک(سجاد راجپوت)’’قطر روس کے مقابلے میں کہیں ایک ننھا سا ملک ہے مگر اس حقیقت سے قطع نظر وہ امیر کبیر ہے اور جدیدیت کے چراغ تلے دنیا بھر میں اسلامی سپر ماش ازم کو برآمد کرنا چاہتا ہے‘‘۔یہ بات نیویارک کے لکھاری اور فریڈم سنٹر کے شیل مین جرنلزم فیلو ڈینیل گرین فیلڈ نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں لکھی ہے۔انھوں نے اس میں ریڈیکل اسلام کو اپنا موضوع بنایا ہے اور لکھا ہے کہ قطر اس وقت بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا 9/11 کے وقت تھا کیونکہ اس کے دہشت گرد گروپوں سے قریبی تعلقات استوار ہیں۔ان تعلقات نے اس کو خطے میں ایک الگ تھلگ قوم بنا دیا ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک نے ایک متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی کو کئی برسوں سے شک تھا کہ قطریوں نے 9/11 کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا تھا اور انھوں نے امریکا کے داخلی امور میں مداخلت کے لیے اپنی سازش کے حصے کے طور پر امریکیوں کی جاسوسی کی تھی۔اس رپورٹ میں قطر کی جاسوسی کی تاریخ اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف بی آئی) کے اہلکار قطر میں نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچے تھے تو قطری حکومت نے اپنے ایک طیارے میں اس کو سوار کرکے بھگا دیا تھا۔اس کے لیے اتنا اہتمام کیا گیا کہ اس کی کھڑکیوں کے شیشے بھی سیاہ کردیے گئے تھے۔گرین فیلڈ نے قطر کو اخوان المسلمون کا مرکزی پشتیبان قرار دیا ہے، اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں۔انھوں نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ کیسے قطر الجزیرہ چینل کے ذریعے دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرتا رہا ہے۔وہ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ ایسے تھنک ٹینکس کے ذریعے امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے علاوہ امریکیوں کی جاسوسی بھی کرتا رہا ہے۔ان کے خیال میں روس کی جانب سے ایران ، شام ، لبنان اور یمن میں شیعہ محوروں (گروپوں) کی حمایت اتنی عدم استحکام سے دوچار کرنے والی نہیں جتنا کہ قطر کی جانب سے شام ، یمن ، لیبیا ، مصر اور خطے بھر میں اسلامی ملیشیاؤں کی حمایت خطرناک ہے۔لیکن وہ قطر کے خطے میں تخریبی کردار کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’ قطر کا ایران کے ساتھ اتحاد ممکن ہے کہ عرب بہار کے انسانی المیے کا حتمی فاتح ہو لیکن یہ قطر کا پروپیگنڈا اور ہتھیار تھے جنھوں نے خطے میں غیر مقدس جنگوں کا آغاز کیا تھا‘‘۔ گرین فیلڈ نے ’’ الجزیرہ ٹیرر نیٹ ورک‘‘ کے حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے کردار کے ساتھ دہشت گرد بادشاہت کی جانب سے اسلامی دہشت گرد اتحادیوں کو بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھیجنے کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ان کے بہ قول الجزیرہ امریکا ناکام ہوچکا ہے لیکن یہ اب بھی دنیا کی سب سے مؤثر پروپیگنڈا سروس ہے حتیٰ کہ روس کے آر ٹی وی سے بھی مؤثر ہے اور اس نے امریکیوں پر اثر انداز ہونے کا سلسلہ ختم نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں :’’ قطر کے امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی تحقیقات کے بجائے ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر اور خصوصی کونسل رابرٹ میولر کو امریکا میں 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کی تحقیقات کی ذمے داری سونپ دی گئی ہے‘‘۔انھوں نے یہ بھی نشان دہی کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر کے ناقد ہیں اور اگر میولر اس کے بارے میں تحقیقات کریں تو وہ بھی قطر کے بارے میں اس رائے تک پہنچیں گے جو صدر ٹرمپ کی ہے لیکن ان کی رپورٹ کے مطابق ’’ میولر پر ماضی میں امریکا میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرنے کا الزام عاید کیا جاچکا ہے۔اب وہ اخوان المسلمون کے قطری پشتی بانوں کے اتحادی بن گئے ہیں تاکہ ایک دہشت گرد ریاست کے لیے قطر مخالف صدر کو گرایا جاسکے‘‘۔ان کے خیال میں غداری کا اس سے بڑا کوئی اور فعل نہیں ہوسکتا۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں میڈیا قطر پر تنقید پر مبنی اسٹوریز کم ہی چلاتا ہے لیکن اگر قطر کی جانب سے دہشت گرد ی کی حمایت اور جعلی خبریں پھیلانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور امریکیوں کی جاسوسی کی جاتی ہے تو پھر اس سے کوئی رعایت نہیں برتی جاسکتی۔جن امریکیوں نے روس کے ساتھ مل کر سازش کی ،ان کا احتساب کیا جانا چاہیے ،اسی طرح جو قطر کے ساتھ ساز باز میں ملوث ہیں ، ان کا بھی تو محاسبہ کیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں