45

نئے سال کے آغاز پر پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد پاکستانیوں کے لئے ایک اور انتہائی خطرناک خبر آگئی

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) سال نو کے آغاز پر ہی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ کر کے پاکستانیوں کی خوشیوں پر پانی ڈال دیا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ تو محض آغاز ہے کیونکہ نیا سال شروع ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت غیر معمولی رفتار سے بڑھنے لگی ہے، جس کے اثرات ہمارے ہاں پہنچنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔

ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور روس کے ساتھ ساتھ اوپیک ممالک کی جانب سے بھی تیل کی رسد میں کمی جاری ہے۔ ان سب عوامل کا نتیجہ نئے سال کے آغاز میں ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق نیا سال شروع ہوا تو یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت دن کے آغاز میں 60.74 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اسی طرح برینٹ کروڈ کی قیمت سال رواں کے آغاز میں 67.29 ڈالر فی بیرل تک دیکھی گئی۔ جنوری 2014ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں کروڈ آئل بنچ مارکس نے 60 ڈالر فی بیرل سے زائد کی قیمت پر سال کا آغاز کیا۔
امریکی ادارے شورک رپورٹ کے مطابق ایران میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے 2018ء کے آغاز میں تیل کی قیمت میں اضافے کے لئے منظر نامہ طے کردیا تھا۔ ایران میں مظاہروں کا سلسلہ متعدد شہروں تک پھیل چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے غیر مستحکم صورتحال میں عدم استحکام کا ایک اور بڑا پہلو قرار دیا جارہا ہے۔
تیل کے بین الاقوامی ذخائر میں کمی اور متعدد ممالک میں اقتصادی شرح نمو کی بڑھتی ہوئی رفتار بھی طلب میں اضافے کا سبب بن رہی ہے ،جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ روس اور اوپیک ممالک کی جانب سے جنوری 2017ء سے تیل کی رسد میں کمی کا سلسلہ بھی جاری ہے، جو کہ 2018ء کے دوران بھی جاری رہے گا۔ تیل پیدا کرے والے بڑے ممالک کی جانب سے پیداوار میں کمی بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کا اہم سبب بنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں