49

باکسر عامر خان نے ایک ایسی حرکت کر دی کہ توہین اسلام کا الزام لگ گیا، قتل کی دھمکیاں موصول، ایسا کیا کیا؟ جانئے

لندن (نیوز ڈیسک) پاکستانی نژاد باکسر عامر خان اور ان کی اہلیہ کے درمیان کشیدگی اور علیحدگی کی خبروں نے میڈیا میں خوب ہنگامہ مچائے رکھا۔ اس صورتحال کی وجہ سے انہیں ذہنی کوفت بھی اٹھانی پڑی اور شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بیوی سے صلح کے بعد بصد مشکل وہ اس مصیبت سے باہر آئے تھے کہ اب وہ ایک ایسا کام کربیٹھے ہیں کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگی ہیں۔
میل آن لائن کے مطابق عامر خان نے کرسمس کے موقع پر اپنی ننھی بیٹی کو خوش کرنے کے لئے اپنے گھر میں ایک کرسمس ٹری بنایا اور سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اس کی تصویر پوسٹ کردی، لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ عامر خان نے گزشتہ رات پوسٹ کی گئی تصویر کے ساتھ لکھا ”میری بیٹی جب صبح بیدار ہوگی تو اسے یہ کرسمس ٹری ضرور پسند آئے گا۔ جب ہر کوئی سورہا ہے تو ڈیڈی نے یہ کرسمس ٹری بنایا ہے، لمائسہ (عامر خان کی بیٹی) اسے دیکھ کر بہت خوش ہوگی۔“
ان کی بدقسمتی کہ صبح ہونے تک انٹرنیٹ پر ان کے خلاف تنقید اور دھمکی آمیز میسجز کا تانتا بندھ گیا۔ غصے سے بپھرے ہوئے ایک صاحب نے عامر خان کو بھیجے گئے میسج میں لکھا ”تمہیں موت آ جائے، اور تمہارے خاندان کو بھی۔ میری دعا ہے کہ موت کا فرشتہ جلد تمہارے پاس آئے۔“ ایک اور صاحب نے عامر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے کہا ”کرسمس ٹری بنانے کے نتیجے میں تمہیں جہنم میں جانا چاہیے۔ تم نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے۔“ اسی طرح ایک اورانٹرنیٹ صارف کا کہنا تھا ”کفار کی نقل کرتے ہو،اور ان کے ملحدانہ تہوار مناتے ہو؟ تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی۔“
جہاں ایک جانب عامر خان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں وہیں ان کے مداحوں کی ایک بڑی تعدادکا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔ ان کی حمایت میں بولنے والے ایک انٹرنیٹ صارف کا کہنا تھا ”اگر انہوں نے اپنی ننھی بیٹی کو خوش کرنے کے لئے کرسمس ٹری بنادیا ہے تو اس کا یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ انہوں نے اپنا مذہب ہی چھوڑدیا ہے؟“ ایک اور صاحب کا کہنا تھا ”عامر خان انگلینڈ کے مغربی کلچر میں رہتے ہیں جہاں کرسمس منایا جاتا ہے۔ اگر اس موقع پر انہوں نے اپنی بیٹی کی خوشی کے لئے کرسمس ٹری بنادیا ہے تو اس میں کیا حرج ہے ؟ آپ دوسروں کے تہوار پر ان کی خوشی میں شامل ہوجائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے اپنا مذہب بدل لیا ہے۔“
یاد رہے کہ عامر خان اپنے مذہبی عقائد کے علی الاعلان اور فخریہ اظہار کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پرگزشتہ سال ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا ”مسجد میری پسندیدہ جگہ ہے۔ میں اپنے ٹریننگ کیمپ کے قریب واقع مسجد میں باقاعدگی سے جاتا ہوں۔ آج کل کے ماحول میں شاید کچھ لوگ یہ کہنے سے ڈرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں لیکن میں ڈرتانہیں ہوں۔ میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں