20

اولاد کی غلطیوں پروالدین کیاکریں! قران کی نظر میں

قرآن پاک میں اللہ تعالی نے سورت یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام اورحضرت یوسف علیہ السلام اوربرداران یوسف کاقصہ بیان فرمایا ہے پوری سورت میں ……
پورے قران میں کسی اورپیغمبر کا ایک ہی جگہ پراتنی تفصیل سے واقعہ بیان نہیں کیاگیا مختلف مقامات پر اگرچہ اللہ تعالی نے انبیاء کرام کاتذکرہ فرمایاہے
لیکن ایک ہی سورت میں اتنی تفصیل اورخوب صورت انداز میں صرف حضرت یوسف کاواقعہ بیان کیاگیاہے ..

اوراس قصے کواللہ تعالی نے احسن القصص فرمایاہے یہ بھی اس واقعے کا امتیازہے ….

اس واقعے کے اندرہمارے لیے بہت سبق پوشیدہ ہے جس کےلیے ایک مستقل تحریر لکھنی ہوگی اس وقت ہم صرف ایک سبق اپنے قارئین کے سامنے رکھناچاہتے ہیں …

برادران یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ ہمارے بھائ یوسف کوہمارے ساتھ بھیجیں
ہم جنگل میں بکریا چرانے جاتے ہیں توہمارابھائ
جنگل کی سیروتفریح کرے گا!

اپنے والدصاحب کومطمئن کرکے حضرت یوسف کو ساتھ لے گئے …

اورجاکرکنویں میں ڈال دیا اورشام کودیرسے روتے ہوئے گھرواپس آئے

اور حضرت یوسف کے کرتے کو خون لگاکرساتھ لے ائے کہ ہم دوڑکامقابلہ کررہے تھے
ایک بھڑیا
آیاحضرت یوسف کوکھاگیا ــ

حضرت یعقوب علیہ السلام کرتے کودیکھ کرسمجھ گئے کہ یہ سوفیصد جھوٹ ہے قران کہتاہے “بدم کذب ” جھوٹاخون لگایاہواتھا… کیونکہ کرتے کوکہی بھی بھڑ یے کہ دانتوں کے نشان نہیں تھے …
کرتا پھٹاہوا بھی نہیں تھا …

لیکن اس کے باوجود کہ بیٹوں نے اتنی بڑی غلطی کی
جھوٹ بولا
باپ کوصدمہ پہنچایا
کہ حضرت یوسف کی جدائ میں روتے ہوئے حضرت یعقوب علیہ السلام نے چالیس سال گزاردیے
لیکن چالیس سال انہیں بیٹوں کے ساتھ گزارے ….

نہ ان کو گھرسے نکالا …
نہ گالیاں دی ….
نہ بددعائیں دی …
نہ عاق کیا ……
نہ لوگوں کے سامنے اپنی اولاد کے گلے شکوے کیے ….
نہ لوگوں کے سامنے بے عزت کیا بلکہ فرمایا میں اس غم کی شکایت اللہ تعالی سے کرتاہوں ..
بلکہ چالیس سال بعد جب حضرت یوسف سے ملاقات ہوئ مصر میں جب حضرت یوسف علیہ السلام کواللہ تعالی نے تخت عطافرمایا ساراواقعہ کھل کرسامنے آگیا

اس وقت بھی حضرت یعقوب علیہ السلام سے بیٹوں نے کہا …..
اباجان ہمارے لیے اللہ تعالی سے استغفار کریں ….
اس وقت بھی اپنے بیٹوں کو کوئ ملامت نہیں کی….

آج کے والدین کوبھی اس واقعے سے سبق حاصل کرنا چاہیے

ہمارے معاشرے میں
آج اولاد سے کوئ غلطی ہوتی ہے
تو والدین بجائے صبرکرنے اورتحمل کا مظاہرہ کرنے کے ……
اپنی اولاد کوگالیاں ….
بددعائیں دینا شروع کردیتے ہیں لوگوں کے سامنے اپنی اولاد کے گلے شکوے کرتے ہیں …
بعض دفعہ گھرسے نکال دیتے ہیں ..
اورتشددکرتے ہیں …
عاق بھی کردیتے ہیں …
لوگوں کے سامنے ان کوبے عزت بھی کرتے ہیں …

جس سے اولاد کے اندرمنفی جذبات پیداہوتے ہیں …
اولاد ڈھیٹ ہوجاتی …
ان میں ضدی پن پیداہوجاتاہے …
بجائے سدہرنے اورسنورنے کے اولاد میں مزید بگاڑ پیداہوجاتاہے
جس کے بہت برے نتائج سامنے آتے ہیں
اس لیے والدین کو اولاد کے معاملے میں حوصلہ
اوربڑادل رکھنا چاہیے
اوردوستانہ ماحول میں اولاد کوپیارومحبت سے سمجھانا چاہیے ….
ان کے لیے دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے …
تواچھے نتائج مل سکتے ہیں ….

اللہ تعالی ہماری اولا د کو نیک صالح اورآنکھوں کی ٹھنڈک بنائے آمین ثم امین ….
ابراہیم عثمانی صادق آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں