9

وقت کی قدراورتنظیم کریں محمدابراہیم عثمانی صادق اباد

وقت ایک گراں مایہ دولت ہے اس دولت کاتقاضہ ہے اسے ضائع ہونے سے بچایاجائے کیونکہ وقت برف کے ایک تودے کی طرح جوہمیشہ پگھلتی رہتی ہے
انسان اس فائدہ نہ اٹھائے تو پانی کی طرح بہہ جاتی ہے انسان اپنی سستی اورکوتاہی وجہ سے بعد مین ہاتھ ملتارہتاہے …

جس طرح زندگی کوقیمتی بنانے کے لیے ضروری ہے اس کی قدروقیمت کوجانا جائے کہ زندگی کتنی بڑی اللہ تعالی کی نعمت ہے اسی طرح وقت کی قدرکے لیے اس کی قدروقیمت جاننا وقت سے فائدہ اٹھانے کاپہلاقدم ہے …

علامہ ابن قیم رح فرماتے ہیں: وقت کاضیاع موت سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ وقت کاضیاع تم کواللہ اوراخروی زندگی سے دورکرتاہے موت تم کودنیا اوردنیاوالوں سے دورکرتی ہے ..

وقت بھی مال تجارت کی طرح اللہ کی نعمت ہے لیکن مال تجارت کی قدرکی جاتی ہے وقت کی نہیں حالانکہ مال تجارت کمائ اس کابدل ہے ضائع ہوجائے توفیکٹری اورمال تیارکرتی ہے دولت ضائع ہوجائے تو انسان پھرکماسکتاہے لیکن وقت ایسی چیز ہے جوچلاجائے پھرواپس نہیں آتا ــ

وقت ایک ایسی تلوار ہے جواس سے فائدہ اٹھاتاہے توٹھیک ورنہ یہ اس کوکاٹ کررکھدیتاہے
جووقت کی قدرکرتاہے پھر وقت بھی اس کی قدرکرتاہے جووقت کوضائع کرتاہے وقت بھی اس کوضائع کردیتاہے ــ

اپنے اوپرظلم
ایک حکیم کاقول ہے جس نے اپنی عمرکاایک دن اس حال میں گزارا نہ نہ کوئ فرض اداکیا نہ قابل تحسین کوئ کام کیا اس نے اپنے اوپرظلم کیا اس دن کے ساتھ بدسلوکی کی ــ
قول حضرت عمر رض
حضرت عمرفرماتے ہیں مجھے ناپسند ہے میں تم کوبیکار اورفارغ دیکھوں نہ تم دنیاکاکام کرو نہ آخرت کا کوئ کام کرو ـ

…وقـــت کی تنــــظـــیـــم ــــ
مومن کوچاہیے وہ اپنی ذمہ داریوں اورمختلف کاموں کے درمیان اپنے اوقات کومنظم اورمنضبط کرے وہ کام چاہے دینی ہوں یادنیاوی جوکام جس آہمیت کاحامل ہواس کواس کی اہمیت اورترتیب سے انجام دینا چاہیے وقت کی تنظیم کی سب سے زیادہ ضرورت اس کوہے جس کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں ــ
جب اوقات کی تنظیم کرے تو چاہیے کہ وقت کا ایک حصہ اپنے ارام وراحت کے لیے بھی فارغ کرے جسم کی طرح دل بھی تھک جاتاہے کچھ وقت جائز کھیل سیر تفریح کے لیے بھی نکالناضروری ہے
حضرت علی کاقول ہے تھوڑے تھوڑے وقفے سے دل کوآرام پہنچاتے رہو اس لیے کہ جب دل کومجبور کیاجاتاہے تودل اکتاجاتاہے وہ اندھاہوجاتاہے ـ
اس لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنے آپ کو اتناتھکادیں کہ قوت کارگردگی کمزوپڑجائے رفتارکا تسلسل ٹوٹ جائے اپنے معاشرے اوراہل وعیال کے حقوق پامال کر بھیٹے خواہ یہ تھکن نماز روزہ عبادات واطاعت کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو ــ

کثرت نہیں استقامت

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام کورات میں کثرت نماز میں مقابلہ کرتے دیکھا توفرمایا

یاایھاالناس خذومن الااعمال ماتطیقون فان اللہ لایملوحتی تملو ان احب الااعمال الی اللہ مادام وان قل ــ صیح البخاری
لوگواتناہی کروں جتنی تم میں طاقت ہو اس لیے کہ اللہ تعالی نہیں اکتاتھا تاانکہ تم اکتاجاؤ اللہ تعالی کے نزدیک بہتراعمال وہ ہیں جن کی پابندی کی جائے خواہ وہ تھوڑے ہوں ــ

جسم آنکھوں گھروالوں کابھی حق ہے تم پر

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو قرآت وقیام روزے میں جدوجہد کرنے والوں کی میانہ روی اعتدال کی نصیحت فرمائ فرمایا:
بلاشبہ تمھارے جسم کا تم پرحق ہے تمھاری آنکھوں کاتم پرحق ہے تمھارے گھروالوں کا ملاقاتیوں کاتم پر حق ہے ــ

مشہورواقعہ

حضرت اصمعی نے ایک عورت کودیکھا جس کے ہاتھ میں تسبیح تھی اورسرمہ لگارہی تھی بناؤ سنگار کررہی تھی حضرت نے فرمایا اس کا کیاربط ہے تسبیح اور بناؤ سنگھار؟
عورت نے جواب میں شعر کہا
وللہ منی والبطالت جانب
وللھومنی والبطالت جانب

میرے معمولات میں اللہ کے لیے ایک خاص پہلوہے جس سے توجہ نہیں ہٹاتی اسی طرح تفریح اورفراغت کے لیے بھی ایک پہلوہے …
حضرت سمجھ گئے نیک عورت ہے شوہروالی ہے اپنے شوہر کے لیے زینت کررہی ہے
اس لیے ہرکام کااپنا وقت ہوتاہے اس کواسی وقت کرناچاہیے
حضرت ابوبکرصدیق نے حضرت عمر کونصیحت فرمائ جان لو
اللہ کے لیے کچھ کام دن کوکرنے کے ہیں جن کورات کوقبول نہیں کرتا کچھ کام رات کو کرنے کے ہیں جن کو دن کوقبول نہیں کرتاہے
اس لیے اہم بات یہ نہیں کہ انسان جس وقت جو چاہے کام کرےبلکہ اہم یہ ہے کہ مناسب کام مناسب وقت انجام دے اس بات کوذہین نشین کرنے کے لیے اللہ تعالی نے بہت سی عبادات کو اوقات میں محدوکردیا ہے جس میں تقدیم تاخیرنہیں ہوسکتی …..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں