7

”جب پاکستان پر انڈر کور ویڈیو بنانا ہو تو یہ 4 باتیں یاد رکھیں “ صحافی عمر قریشی نے بھارتی میڈیا کو ’ مفت مشورہ‘ دے دیا

کراچی (نمائندہ خصوصی)بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کو دہشتگردثابت کرنے کیلئے جھوٹی ویڈیوز اور آڈیوز جاری کی جاتی ہیں جنہیں دیکھ کر یا سن کر کوئی بھی پاکستانی یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ آڈیو جی ایچ کیو سے لیک ہوئی ہے لیکن اگر زبان پر غور کیا جائے تو ایسی عجیب و غریب اردو کا استعمال کیا گیا ہوتا ہے جو پاکستان تو کیا ہندوستان میں بھی نہیں بولی جاتی ۔

ہندوستانی میڈیا کی آئے روز کی بے تکی ویڈیوز اور آڈیوز سے تنگ آئے سینئر صحافی عمر قریشی نے انہیں مفت مشورہ دے دیا ہے۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کو مخاطب کرکے کہا کہ جب پاکستان پر انڈر کور ویڈیو بنانا ہو تو چار باتوں کا خاص خیال رکھیں۔

1: ہم ’موجا‘ نہیں کہتے، یہ ’موزہ‘ ہے

2: ہم ’ فر‘ نہیں کہتے، ہم ’ پھر‘ کہتے ہیں

3: ہم ’گجب‘ نہیں بلکہ ’ غضب‘ کہتے ہیں

4 : ہم گفتگو کے دوران ہر جملے میں ’ جناب‘ کا لفظ بھی استعمال نہیں کرتے

خیال رہے کہ اوڑی حملے کے وقت بھی انڈین میڈیا پر ایک آڈیو چلائی گئی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ حملہ آوروں کے مابین ہونے والی گفتگو ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد بھی بھارت کے مختلف ٹی وی چینلز نے مختلف قسم کی آڈیوز جاری کی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ جی ایچ کیو سے لیک ہوئی ہیں۔ ان آڈیوز کو اگر سنا جائے تو بھارتی میڈیا کا سارا جھوٹ سامنے آجاتا ہے کیونکہ ان میں اردو کو اس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے جیسا بالی ووڈ کی فلموں میں مسلمانوں کو دکھایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں