7

تعلیم کی افادیت تحریر عمران شوکت سہوترا ۔گوجرہ

آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ھے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کر لے۔ حالنکہ آج کا دور کمپیو ٹر کا دور ہے, ایٹمی ترقی کا دور ہے, سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر سکولوں میں سائنسی عصری تعلیم انجئرنگ وکالت ڈاکٹری مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لاذمی تکاضا ہے۔
جدید علوم تو ضروری اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ مسم ہے اس کہ ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت کی دوستی کے لئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ اس تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی, عبادت, محبت, خلوص, عبادت, خدمِت خلق وفا داری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معاشرے کی تشکیل ہو سکتی ہے۔
تعلیم کے حصول کے لۓ قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہے جو بچوں کو اعَلی تعلیم کے حصول کے لۓ مدد فراہم کرتے ہے۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہو گیا ہوں۔
بلکہ استاد وہ ہے جو طلبا۶ طالبات کی خفیہ صلاحتیوں کو بیدار کرتا ہے۔ اور انہیں شعور و ادراک علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالامال کرتا ہے۔
جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہے اس تناظر میں اگر آج کے دوران کا جائزہ لیا جاۓ تو محسوس ہو گا کہ پیشہ تدریس کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے محکمہ تعلیمات اور سکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہو گیا۔
کل تک حصولِ تعلیم کا مقصد تعمیر انسانی تھا آج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے مگر افسوس کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست قصِر شاہی کی طرح قابض رہا ہے
جن کے نذدیک اس عظیم پیشہ کی قدرو قیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ بد قسمتی اس بات کی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوۓ ہیں۔ جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لۓ ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کر رکھا ہے جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیا ہوں۔ مگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجتے ہے بلکہ جدید ذمانے کے جتنے بھی لوگ ہے وہ سارے مشرق سے ہی ہےموزانہ کیا جاۓ تو معلوم ہو گا کہ آج یورپ تک کی جامعات میں پاکستانیوں کی تصنیف کردہ کتابیں شامل ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں