8

جـنــت کــے راســتــے مضمون نگار: محمد ابراہیم عثمانی صادق اباد

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک یہودی نے سوال کیا کہ اپ کتنے گھنٹے عبادت کرتے ہو؟
حضرت علی نے فرمایا:” ہم چوبیس گھنٹے دن رات عبادت کرتے ہیں۔”

یہودی حیران ہوگیا کہنے لگا کیاتم سوتے نہیں ہو؟ کیاتم کاروبارنہیں کرتے ہو؟ کیاتم دنیاوی حاجات کو وقت نہیں دیتے؟ حضرت علی نے فرمایایہ سب کام ہم کرتے ہیں ــــ
یہودی نے کہا پھرتم دن رات عبادت کیسے کرتے ہو؟

حضرت علی نــے فرمایا ہم جوکام بھی کرتے ہیں اپنے ہیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے سنت کے طریقے کے مطابق کرتے ہیں توہماراہرکام عبادت بن جاتاہے ــ

اللہ جل شانہ کاپاک ارشادہے:”
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ــ
(اےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم )
اپنی امت سے کہدیجئیے اگرتم اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہوتومیرااتباع کرو… اللہ تعالی تھمیں اپنامحبوب بنالــے گا ..
بہت سے لوگوں نے یہ دعوی کیاکہ ہمیں اللہ تعالی سے محبت ہے …. اس وقت یہ ایت نازل ہوئ .. اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کواپنی محبت کی علامت قراردیا ــ

حضرت حسن بصری رح اس آیت کی تفسیرمیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی محبت کی علامت اتباع سنت ہے ـــ
اگرکوئ شخص اللہ تعالی سے محبت کادعوی کرے لیکن اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کرتاہوتو یہ اس کادعوی جھوٹاہے اگریہ دعوی سچاہوگا تو اس کی زندگی میں اتباع سنت کارنگ ہوگا ـــ

اسی آیت میں فرمایا جوپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا اس کو میں اللہ اپنا محبوب بنالوں گا ـ جواللہ تعالی کے محبوب کی اداؤں یعنی سنتوں پرعمل کرے گا اللہ تعالی اس کو اپنا پیارا خاص محبوب بنالے گا اورفرمایا اس کے پچھلے گناہ بھی معاف کروں گا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد نقل کرتے ہے جومیری سنت پرعمل کرے گا میری امت کے فسادکے وقت تواس کوسوشہیدوں کا اجرملے گا ۔

موطا امام مالک میں حدیث مرسل نقل کی گئ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں دوچیزیں چھوڑرہا ہوں … جب تک ان کومظبوط پکڑے رہوگے گمراہ نہ ہوگے ـ کتاب اللہ ــ اورسنت ــ سنت کی اہمیت اکابرکی نظرمیں ۔

امام زہری رح فرماتے ہیں سنت کوپختہ پکڑنا نجات ہے ـ
حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ سنت مثل کشتی نوح علیہ السلام کے ہے جواس میں بیٹھ گیا کامیاب ہوگیا جواس سے پھیچے رہ گیا غرق ہوگیا ـ

جوشخص اتباع سنت کا جتنا زیادہ اہتمام کرے گا اتناہی اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ومقرب ہوگا ـ
ـ جنت میں رفاقت نبوت ملے گی حضرت انس رضی اللہ عنہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں
جس نے میری سنت کوزندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ــ
اس لیے صحابہ کرام اپ صلی اللہ کی چھوٹی چھوٹی سنت پربھی عمل کرتے تھے کسی حال میں بھی سنت کو چھوڑنا وہ پسند نہیں فرماتے تھے کئ واقعات صحابہ کرام کے اس پر روشن دلیل ہیں ـــ

حضرت حذیفہ دسترخوان پرکھانا کھارہے ہیں اورعرب لوگ بھی موجودہیں ایک لقمہ دسترخوان پرگرجاتاہے … اس کو اٹھا کرکھانے لگے توایک ساتھی نے اپ کو کہنی ماری کے یہ عرب کے لوگ کیاکہے گے بھوکے ہیں گراہوالقمہ اٹھاکرکھارہے ہیں ــ توحضرت حذیفہ نے فرمایا کیا ان احمقوں کی وجہ سے اپنے پیارے نبی کی سنت چھوڑدوں ۔

اسی طرح ایک اوروقعہ ہے کہ ایک صحابی کی ڈاڑھی مبارک کا صرف ایک بال تھا …کسی نے کہدیا یہ ایک اکیلا بال اچھا نہیں لگتا اس کو ختم کردو …
فرمایا یہ ایک بال اس لیے تونہیں رکھا کہ میراچہرہ اچھالگے بلکہ اس لیے رکھا ہے کہ پیارے نبی کی سنت میرے چہرے پر زندہ رہے ـ

ایک اسی سالہ بزرگ جن کے دانت بالکل نہیں تھے مسواک کررہے تھے کسی نے کہا بزرگ سے کہ اپ کے دانت تو نہیں ہیں مسواک کیوں کررہے ہو تواس بزرگ نے بڑا خوب صورت جواب دیا کہ میں مسواک دانت صاف کرنے کے لیے نہ پہلے کبھی استعمال کیا نہ ابھی اس وجہ سے کررہاہوں پہلے بھی مسواک سنت سمجھ کرکیاکرتاتھا ابھی اپنے محبوب کی سنت سمجھ کررہاہوں ـــ

حضرت جنید بغدادی رح ایک مرتبہ مسجد سے باہرنکل کرسفرکے لیے گھوڑے پرروانہ ہوجاتے ہیں ایک دومیل سفرکرنے کے بعد خیال ایا کہ سنت کے خلاف مسجد سے باہرنکلا ہوں وہی سے واپس لوٹ کراتے ہیں مسجد میں دورکعت نماز نفل توبہ کے پڑھ کر اللہ سے معافی مانگتے ہیں اوردوبارہ سنت کے مطابق مسجد سے باہرنکل کر سفرشروع فرماتے ہیں یہ لوگ تھے سنت کے قدردان ……..آو عــہد کریں ــ ہم نے اپنی چوبیس گھنٹے کی زند گی اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق گزاریں گے ــ کھانا ہرانسان کی ضررت ہے اج کے بعد کھانا ہم سنت کے مطابق کھائے گے ـ ہماراکھانا کھانا بھی عبادت بن جائے گا ـ سونا ہر انسان کی ضرورت ہے اج کے بعد ہم سنت کے مطابق سوئیں گے ہماراسونا بھی عبادت بن جائے گا لباس ہرانسان کی ضرورت ہے ہم اج کے بعد سنت کے مطابق لباس پہنیں گے لباس پہننا بھی عبادت بن جائے گا جوتاسنت کے مطابق اتاریں گے اورپہنیں گے حتی کہ ہم بیت الخلا بھی سنت کے مطابق جائیں گے اس کابھی اجرملے گا ۔

آج کے بعد ہم ہرکام عمل کھانا پینا سونا پہننا اخلاق تجارت چلنا ہرکام سنت کے مطابق کرکے اپنی چوبیس گھنٹوں کی زندگی کوعبادت بنائیں گے سنت پرچلنے سے دین ودنیاکی کامیابی ہے اسی پرچلنے سے ہم اللہ تعالی کے پیارے بھی بن جائیں گے۔دنیا بھی بن جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ادھر بھی کامیابی اور ادھر بھی کامرانی۔
ابراہیم عثمانی صادق اباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں