16

تحریر: عبدالوحید شانگلوی۔ ۔توشہ آخرت!

توشہ کیا ہے؟ توشہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ زادِ راہ کو کہا جاتا ہے، یعنی وہ چیز، وہ کھانا جو مسافر اپنے ساتھ لےکر جاتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان دنیا سے آخرت کی طرف سفر کرتا ہے تو اس کے لئے بھی توشہ ہونا چاہیے، جو وہاں اس کے کام آئے۔ وہ ہے” نیک اعمال “۔ اگر انسان کے پاس نیک اعمال ہیں تو یہ اس کے لئے کام آئیں گے ورنہ ناکام رہے گا۔ نیکی آخرت میں تو ضرور کام آئے گی لیکن دنیا میں بھی معاون ثابت ہو تی ہے۔ دنیا میں انسان کا واسطہ تین چیزوں کے ساتھ پڑتا ہے: مال، رشتہ دار اور نیک اعمال، ان میں سے یہ دو چیزیں صرف دنیا میں کام آتی ہیں اور ایک دنیا و آخرت دونوں میں۔ دنیا و آخرت دونوں میں جو کام آتی ہیں وہ “نیک اعمال” ہیں۔ دنیا میں فائدہ اس طرح ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے: “صدقہ مال کو زیادہ کرتا ہے”۔ مال کا زیادہ ہو نا یہ دنیاوی فائدہ ہے۔ اور اخروی فائدہ کے بارے میں نبی علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے: “مردے کےساتھ قبر تک تین چیزیں جاتی ہیں، ان میں سے دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور اس کےساتھ ایک چیز باقی رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ رشتہ دار، اس کا مال اور اس کی عمل جاتا ہے لیکن اس کے رشتہ دار اور اس کا مال واپس آجاتے ہیں اور اس کے ساتھ اس کا عمل باقی رہ جاتاہے”۔ وہاں باقی رہنے والا صرف عمل ہے، جو انسان کے کام آئےگا۔ ہر مصیبت اور بلا سے اس کو بچائے گا۔ دنیا کے ناز ونخرے، مال و اولاد، عیش و عشرت سب ختم ہونے والے ہیں۔ صرف عمل باقی رہےگا، جو آخرت کا توشہ ہے۔ جب تک انسان میں روح ہوتی ہے، انسان زندہ ہو تا ہے تو اس کے پاس وقت ہےکہ تیاری کر کے آخرت کے لئے توشہ تیار کرے ورنہ مرنے کے بعد کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ وہاں کے مصائب جب ذکر کیے جاتے ہیں تو انسان کے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ اب ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔ یہ سارا نظام تہہ وبالا کر دیا جائے گا۔ نگ ونام بھول جائے گا۔ ہر آدمی اپنی فکر میں ہو گا کہ میرا کیا بنےگا۔ وہاں کے مصائب سے مامون رہنے کےلئے اب نشہ خیرن ہونا چاہیے۔ وہاں اندھیرا تہ بہ تہ ہو گا، گرد و پیش سیاہی کا بے پایاں سمندر ہو گا۔ جن کے پاس عمل ہو ان کی قبر بھی روشن ہو گی۔ ان کی آخرت بھی روشن ہو گی۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ” اگر کوئی مصیبت کی شکل اس کے سر کی طرف سے آئے تو قرآن کی نیکی اس کا تحفظ کرے گی اور اگر کوئی بدی کی مصیبت اور عذاب دائیں طرف سے آئے تو نماز کی نیکی اس کی محافظ بن جائے گی، اگر کوئی مصیبت و پریشانی بائیں طرف سے آئے تو روزہ آڑ بن جائے گا۔ اگر کوئی مصیبت پاؤں کی طرف سے آئے گی تو صدقہ وخیرات کی نیکی اس کی حفاظت کرے گی۔ یوں یہ نیکیاں اسے اپنی حفاظت میں لے لیں گی”۔ جن کے پاس نیکی یعنی آخرت کا توشہ ہے، ان کا تو بیڑہ پار ہو جائے گا، لیکن جن کے پاس نیکی نہ ہو تو بد بختی ان کی مقدر ہو گی۔ دنیا تو دار الامتحان ہے، چند دن ہیں ہمارے پاس۔ اصل زندگی تو آخرت کی ہے، جو نہ ختم ہو نی والی ہے۔ جب سفر لمبا ہے، بحر ِ بے کنارے تو توشہ بھی اس کی مطابق ہونا چاہیے۔ دنیا ہوش یار آدمی جب سفر پر جاتا ہے تو جتنا سفر لمبا ہو تا ہے اتنا توشہ بھی زیادہ لےکر جاتا ہے۔ دنیا کی زیب و زینت، مال ودولت، رشتہ کوئی بھی کام نہیں آئے گا۔ تمہارے والدین جو آپ پر دنیا میں ناز کرتے تھے۔ وہ بیوی بچے جن کے لئے آپ زندگی صرف کرتے تھے وہ بھی آپ سے بھا گیں گے۔ اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: “جس دن کہ بھا گے مرد اپنے بھائی سے اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی ساتھ والی سے اور اپنے بیٹوں سے”۔ معاملہ بڑا سخت ہو گا، ہر آدمی کو عمل کی ضرورت ہوں گی۔ اس امت پر تو اللہ تعالی بہت بڑا احسان ہے عمل میں آسانی ثواب میں اضافہ، نمازیں پانچ مگر ثواب پچاس کا ملےگا۔ شب معراج میں اللہ تعالی نے نبی علیہ السلام سے فرمایا کہ نمازیں پانچ ہو گئیں مگر ثواب پچاس کا ہو گا۔ یہ تو مشت نمونہ خروار میں نے ایک بیان کی۔ جب معلوم ہوا کہ سب کچھ نا کام صرف نیک اعمال آخرت کا توشہ ہے، تو پھر اس کو دنیا میں کرنا چاہیے۔ چاہیے نماز، روزہ کیا شکل میں ہوں، یا صدقات خیرات کی شکل میں اور یا نیک اولاد کی صورت میں ہوں۔ رشتہ دار تو دفن کرتے ہوئے یہ کہیں گے علحد تک تیری تعظیم کردی اب آپ کے اعمال جانیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں