67

سائنسدانوں نے برف میں ایسی چیز دریافت کرلی کہ ہوش اُڑگئے، کائنات اور خلائی مخلوق کے بارے میں اہم راز پتہ چل گیا

زیورخ(نیوز ڈیسک)قطب شمالی اور قطب جنوبی زمین کے وہ حصے ہیں جو سارا سال برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کی برفانی زمین کی سطح پر بھی کسی قسم کی زندگی کا وجود محال نظر آتا ہے لیکن سائنسدانوں کے لئے یہ انکشاف بے حد حیرت کا باعث بنا ہے کہ قطبین کی برف کے اندر بھی زندگی کی ایک قسم پھل پھول رہی ہے۔
میل آن لائن کے مطابق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ آرکٹک اور انٹارکٹک علاقے کی برف میں پہلی بار یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ یہاں بیکٹیریا کی ایک قسم برف کے اندر خوب پرورش پا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غالباً یہی بیکٹیریا برف کے اندر موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔
یونیورسٹی آف یارک کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ اس تحقیق کے نتیجہ میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ قطبین کی برف میں زندگی موجود ہے۔ سائنسدانوں کو برف میں موجودبیکٹیریا کے آثار میتھائل آیوڈائڈ گیس کی مدد سے ملے، جو کہ آبی بیکٹیریا کی وجہ سے پیدا ہو تی ہے۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ برف کے نیچے بیکٹیریا کی میٹا بولک سرگرمی جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایسی جگہوں پر بھی زندگی کی توقع کرسکتے ہیں جہاں پہلے اسے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ ان کا اشارہ خلاءکی وسعتوں میں موجود وہ سیارے ہیں جوہمیشہ برف سے ڈھکے رہتے۔ ماہرین پر امید ہیں کہ کائنات کے دور دراز گوشوں میں ان سیاروں پر بھی زندگی اسی طرح موجود ہو سکتی ہے جس طرح یہ قطبین کی برف میں موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں