12

تحریر : بیٹی کا مقام صدائے میواتی ازقلم : مشتاق احمد میواتی*

بیٹے اور بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں،اللہ رب العزت نے اپنی حکمت بالغہ سے ایسا نظام قائم کیا ہے ۔ کہ مردوعورت دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ قبل از اسلام قریش کے لوگ بیٹی کی پیدائش کو باعث ننگ و عار تصور کرتے تھے، اس لئے اس کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ اور یہ ظلم صرف عرب ہی میں نہیں بلکہ ہندوستان میں بھی یہی حال تھا ۔

آج کل ایک عجیب روایت پڑ گئی ہے کہ بیٹی پیدا ہوتی ہے تو گھر میں ماتم سا بچھ جاتا ہے ۔ جیسے پتا نہیں قیامت برپا ہوگئی ہو ۔ اس کو برا تو ایسے سمجھتے ہیں ، جیسے خود کسی ماں کے بیٹے نہ ہوں۔ ایسے جاہلانہ ذہن کے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے ۔ حالانکہ بیٹی تو اللہ کی رحمت ہے ۔ مگر لوگ اب ہمارے معاشرے میں اس کو زحمت سمجھ بیٹھے ہیں۔ کیونکہ بیٹی جس گھر میں بھی آتی ہے ، اس گھر کی رونقیں دوبالا ہو جاتی ہیں۔ اکثر بیٹیوں کو ان کے حقوق تک نہیں دئیے جاتے ، ان کو وراثت سے حصہ دینا تو دور کی بات ان کو بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے ۔

بیٹوں کیلئے تو اعلیٰ تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے، اور جبکہ بیٹیوں کو ابتدائی تعلیم سے ہی محروم رکھا جاتا ہے ۔ اور اکثر لوگوں کے ذہنوں میں ایک ہی جملہ ہوتا ہے کے یہ تو پرایا گھر ہے ۔ اس نے کونسا ہمارے پاس رہنا ہے ، اس سے تو بیٹے پر خرچ کر لینا بہتر ہے ، اسلام تو عورت کو ماں، بیٹی ، اور بہن کا درجہ دیتا ہے ۔ اور اس کو اونچے منصب پر بٹھاتا ہے مگر ہمارا معاشرہ عورت کو قتال میں گرانے کے در پر ہے ۔

ہمارا معاشرہ جہالت کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ کچھ لوگ آج بھی بیٹی کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ایسے باشعور لوگ بھی ہیں ۔ جو بیٹی کو اللہ کی رحمت اور اپنے لئے برکت سمجھتے ہیں۔ اگر بیٹیاں پڑھے لکھے باشعور گھرانوں میں پیدا ہوں تو پھر انہیں ان کے حقوق بھی ملتے ہیں اور وہ دنیا میں اپنا مقام بھی بناتی ہیں۔ اور پھر انہیں گھرانوں سے ارفع کریم جیسی ہونہار بیٹیاں سامنے آتی ہیں۔ جو اپنے والدین کی عزت کا باعث بنتی ہیں۔ بلکہ وہ اپنے ملک اور قوم کیلئے بھی فخر کا باعث بنتی ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بیٹیوں کو اعتماد اور برابر کہ حقوق دئیے جائیں ۔ جب ان کو ان کے حقوق ملیں گے تو پھر ان کو جب والدین کا اعتماد حاصل ہوگا تو ان کہ حوصلے اور بھی بلند ہونگے ۔ اور یہ کبھی بھی اپنے والدین کو ٹھیس نہیں پہنچائیگی۔ بلکہ اپنے بابا کا فخر بنے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹی اللہ رب العزت کی نعمت ، انعام ، رحمت ہے ۔ اب بھی بہت سارے دوست ملتے ہیں۔ بیٹی ہونے کی خوشی میں ان کہ چہروں پر خوشی کہ آثار واضح نظر آتے ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جسے چاہوں بیٹے عطا کروں جیسے چاہوں بیٹیاں ، چاہوں تو دونوں عطا کردو ۔ اور چاہوں تو اسے بانچھ کر دوں ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔کہ عورت اگر ماں ہے تو اس کہ قدموں کے تلے جنت ہے ۔ عورت اگر تیری بیوی ہے تو یہ تیری دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے ۔ یہ دنیا ساری متاع ہے اور دنیا میں سب سے قیمتی چیز جو ہے وہ نیک بیوی ہے ۔
نبی کریم ﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے۔ جو شخص اپنی دو بیٹیوں ( یا بہنوں ) کی اچھی اور اسلامی طریقے سے تربیت کرکے ان کی شادی کر دے ، تو اللہ رب العزت ان بیٹیوں ( یا بہنوں ) کو اس کیلئے جہنم کی راہ میں دیوار بنا دے گا ۔

حضرت انس رض سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی طرح پرورش کرے ( اور وہ جب شادی کہ قابل ہو جائیں تو ان کی شادی کر دے ) تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہونگے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ ( ترمزی ).

ایک دفعہ ایک دوست مجھے کہنے لگا کہ اللہ تمہیں اولاد نرینہ سے نوازے تو میں نے اس سے پوچھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیٹا اور بیٹی دونوں سے نوازا ہے بتاؤ دونوں میں فرق کیا ہے ۔ تو وہ دوست مجھے کہنے لگا کہ جب میں شام کو گھر لوٹتا ہوں۔ تو بیٹا بھی محبت سے ملتا ہے اور بیٹی بھی مگر بیٹی کی محبت کا انداذ ہی نرالا ہے ۔ میرے لئے پانی کا گلاس اس کہ ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ پھر اس کو میرے جوتوں کی فکر پڑ جاتی ہے ۔ وہ میرے لئے جوتے لاتی ہے ۔ پھر وہ میرے پاؤں دباتی ہے ۔ اس کہ اس پیار سے میرے دن بھر کی جتنی بھی تھکاوٹ ہوتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے ۔ میں اپنی تھکاوٹ بھول جاتا ہوں ۔ خدا کی قسم جب یہ گھر سے رخصت ہوتی ہے تو پھر ماں باپ کو ہی پتا ہوتا ہے کہ ان پر کیا گزرتی ہے ۔ اللہ ہر ایک کی بیٹی کہ نصیب اچھے کرے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں