21

(دین اسلام ہندوستان میں) تحریر:: سحبان تقی

متعلم:: جامعہ دارالعلوم کراچی
صحیح حدیث میں ہے””اسلام کا آغاز مسافرانہ بے کسی میں ہوا اور پھر وہ مسافرانہ بے کسی میں ہوگا تو مسافرت کے بے کسوں کو مبارکباد ہو”‘
اسلام کی ابتداء ہوئی جب صدائے حق بند ہو چکی تھی،دین ابراہیمی کا وجود سایہ ہو کر رہ گیا تھا ، کفر و شرک کی ظلمت چاروں اطراف میں اپنا پھریرا لہرا رہی تھی، نبوت کا نور جی صدیوںسےزیر نقاب تھا، دعوت و توحید تو گویا ایک بیگانہ آواز تھی جو مسافرانہ بے کسی کے عالم میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بلند ہوئی۔پورب،پچھم،دائیں،بائیںاس صدائے حق کو نامانوس اور اجنبی مانا گیا۔۔ہادی نے چاروں طرف دیکھا اور ہر طرف اسکو وہی بیگانگی،اجنبیت اور مسافرانہ بے کسی کا منظر نظر آیا۔۔
رفتہ رفتہ یہ بیگانگی رفع ہوئی اور یہ بیگانگی کافور ہوئی،آواز کی کشش اور نوائے حق کی بانسری نے دلوں میں اثر کیا، کان والے سننے لگے ،جو سننے لگے سر دھننے لگے،یہاں تک کہ وہ دن آیا کہ سارا عرب اس کیف سے معمور اوراس شراب سے مخمور ہوگیا اور اسلام کا مسافر اپنے گھر پہنچ کر عزیزوں اور دوستوں میں ٹھہر گیا۔
پھر وہ نا ختم ہونے والا قافلہ بن کر آگے بڑھا ،عرب کے ریگستانوں سے نکل کر عراق کی نہروں اور شام کے گلستانوں میں پہنچا،پھر آگے بڑھا اور ایران کے مرغزاروں اور مصر کی وادیوں میں آ کر ٹھہرا اس سے آگے بڑھا تو ایک طرف خراسان و ترکستان کو عبور کر کے ہندوستان کے پہاڑوں اور ساحلوں پر اس کا جلوہ نظر آیا اور دوسری طرف افریقہ کے صحراؤں کو طے کرکے اس کا نور بحرظلمات کے کنارے چمکا۔۔
پھر تنزلی کا سفر تیار ہوا۔آہستہ آہستہ اہل کارواں چھٹتے گئے۔تماشائی تماشا کرتے دور نکل گئے، کتنے حسن ظاہر کے طلبگار اور طبعی مناظرکے شیفتہ ان تماشوں میں اپنے سفر کے مقصد کو بھول گئے اور جہاں پہنچ گئے وہیں رہ گئے۔۔
مسافرین اسلام پھر تنہا رہ گئے۔ان کی لطافت بھری آواز میں پھر سے بیگانگیت آ ٹپکی۔ جو صدائے حق تھی وہ صدابصحرا بن کر رہ گئی۔آخرکار قافلے کی بانگ درا خاموش ہوگئی اور کارواں یکسر خواب غفلت میں چار سو برس کے لیے محو ہوگیا۔ ابھی مسافر کے آغاز سفر پر ہزار برس گزار رہا تھا کہ اکبر کا دور شروع ہوگیا۔۔عجم کے کسی دیوانے جادوگر نے بادشاہ کے کان میں سحروترنّم بھری آواز میں یہ منتر پھونکا کے دین عربی کی ہزار سالہ عمر پوری ہوگئ ۔اب وقت ہے کہ ایک شہنشاہ امی کے ذریعے نبی امی علیہ الصلاۃ والسلام کا دین منسوخ ہو کر دین الہی کا ظہور ہو ،چاروناچار یہ آواز بلند ہوئی ہی تھی کہ مجوسیوں نے آتش کدے گرمائے، عیسائیوں نے ناقوس بجائے، برہمنوں نے بت آراستہ کیے۔اور جوگ اور تصوف نے ملکر کعبہ اور بت خانے کو ایک ہی چراغ سے روشن کرنے پر اصرار کیا۔کتنے زنارداروں کے ہاتھوں میں تسبیح اور کتنے تسبیح خانوں کے گلوں میں زنار نظر آئے۔بادشاہی آستانے پر کتنے امیروں کے سر سجدے میں پڑے اور دربار شاہی میں کتنے دستاربند کھڑے دکھائی دیے اور مسجدوں کے ممبروں سے یہ صدا بصحرا تھی
“”” اللہ اکبر اللہ اکبر”””
یہ ہو ہی رہا تھا کہ سر ہند کی سمت سے ایک پکار آئی “”راستہ صاف کرو کہ راستے کا چلنے والا آتا ہے””ایک مجدد وقت میدان میں اترا۔ جہانگیر کے طوق و سلاسل میں بڑھ کر ان کے قدم لئے اور وہ شاہی قیدی کی حیثیت سے اسیر زندان ہوئے،اس یوسف زندانی نے یوسف کنعانی کی طرح ارباب متفرقون خیر ام للہ الواحدالقہّار کا نعرہ لگایا۔ یہ نعرہ تھا یا نوحہ جس نے سوتوں کو جگا یا مسافر اسلام کی درا کی دھیمی دھیمی آواز پھر سنائی دینے لگی۔۔یہ مجدد میرے رہبر اور پیشوا”” علامہ احمد سرہندی “”تھے جن کا نام لیتے ہیں میرے خون کا ذرا ذرا جھوم اٹھتا ہے اس سرہندی مجدد نے دہلی کے ایک اور شخص کو گرمایا جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد شاہ عبدالرحیم دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نکلے۔۔
شاہ صاحب کے خلاف نے پوری صدی تک وہ چراغ ہدایت روشن رکھا جو ان کے پدربزرگوار نے جلایا تھا۔ پھر شاہ ولی اللہ نے انتشار اور پراگندگی کو عمق نگاہ سے دیکھا اور دادا کے نقشے کو اپنے خون سے رنگ کر تیار کرنا چاہا۔
پھر تیرہویں صدی کا آغاز تھا کہ اس خاندان میں چودھویں کا چاند طلوع ہوا۔۔میرا اشارہ مجاہد کبیر حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش کی طرف ہے چند سال بعد یہ چاند مجاہد وعرفان کا آفتاب بن گیا۔
پھر جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم و بدعات کا زور تھا تو مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سید احمد کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدید دین کی نئی تحریک شروع کی۔۔یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب پر سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔۔ ان دونوں بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا علم اٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سےلےکر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس علم کے نیچے جمع ہونے لگے۔۔
سید صاحب کے خلفاء ہر صوبے اور ریاست میں پہنچ چکے تھے۔اور اپنے اپنے دائرے میں تجدید، اصلاح اور تنظیم کا کام سرانجام دے رہے تھے۔۔ مشرکانہ رسوم مٹائے جا رہے تھے، بدعات چھوڑی جا رہی تھی، نام کے مسلمان کام کے مسلمان بن رہے تھے۔ جو مسلمان نہ تھے وہ بھی اسلام کا کلمہ پڑھ رہے تھے، شراب کی بوتلیں توڑی جا رہی تھی، تاڑی اور سیندھی کے خم چھوڑے جا رہے تھے،بازاری فواحش کے بازار سرد ہو رہے تھے اور حق و صداقت کی بلندی کے لئے علماء حجروں سے اور امراء ایوانوں سے نکل نکل کر میدان میں آرہے تھے اور ہر قسم کی ناچاری، مفلسی اور غربت کے باوجود تمام ملک میں اس تحریک کے سپاہی پھیلے ہوئے تھے ۔اب” اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد”کا وقت آن پہنچا تھا اب وہ لمحہ آ چکے تھے کہ خدائے یکتا کی عبادت بلاخطرحجب کی جائے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں