11

روزہ کی قدروقیمت اور اس کا صلہ حکیم محمد زکریا عاصم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے روزہ کی فضیلت اور قدروقیمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دس گناہ سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے یعنی اس امت مرحومہ کے اعمال خیر کے متعلق عام قانون الہی یہی ہے کہ ایک نیکی کا اجر اگلی امتوں کے لحاظ سے کم از کم دس گناہ ضرور عطا ہوگا یہاں تک کہ بعض مقبول بندوں کو ان کے اعمال حسنہ کا اجر سات سو گنا عطا فرمایا جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے اس عام قانون رحمت کا ذکر فرمایا مگر اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ روزہ اس عام قانون سے مستثنیٰ اور بالاتر ہے وہ بندہ کی طرف سے خاص میرے لئے ایک تحفہ ہے میں ہیں جس طرح چاہوں گا اس کا جواب دوں گا میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہش نفس اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے بس میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی اس قربانی اور نفس کشی کا صلہ دونگا روزہ دار کے لیے دو مسرت ہیں ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے مالک و مولا کی بارگاہ میں حضوری اور شرف باریابی کے وقت اور قسم ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے یعنی انسانوں کے لیے مشک کی خوشبو جتنی اچھی اور جتنی پیاری ہے اللہ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو اس سے بھی اچھی ہے اور روزہ دنیا میں شیطان اور نفس کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اور آخرت میں آتش دوزخ سے حفاظت کے لیے ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو چاہیے کہ وہ بے ہودہ اور فحش باتیں نہ بکے اور شوروشغب نا کرے اور اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوچ یا جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں یہ حضور کائنات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک حدیث ہے اکثر وضاحت حدیث شریف میں ہوچکی ہے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ جب کسی کا روزہ ہو تو وہ خوش اور گندی باتیں اور شوروشغب بالکل نہ کریں اور اگر بالفرض کوئی دوسرا اس سے الجھے اور گالیاں بکے جب بھی یہ کوئی سخت بات نہ کہے بلکہ صرف اتنا کہہ دے کہ بھائی میرا روزہ ہے اس آخری ہدایت میں اشارہ ہے کہ اس حدیث میں روزہ کی جو خاص فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں یہ انہی روزوں کی ہیں جن میں شھوت نفس اور کھانے پینے کے علاوہ گناہوں سے ہٹا کے بری اور ناپسندیدہ باتوں سے بھی پرہیز کیا گیا ہے ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص روزہ رکھے لیکن برے کاموں اور غلط باتوں سے پرہیز نہ کرے تو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی اللہ کو کوئی احتیاج نہیں معزز قارئین اکرام چونکہ کالم کا عنوان روزہ کی قدروقیمت اور اس کا صلہ ہے اس لیے اسی عنوان پر ایک اور حدیث آپ کی نظر حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جس کو بابریان کہتے ہیں اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہوگا ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوسکے گا اس دن پکارا جائے گا کدھر ہے وہ بندے جو اللہ کے لئے روزہ رکھا کرتے تھے بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے وہ اس پکار پر چل پڑیں گے اس کے سوا کسی اور کا نہیں ہوسکے گا جب وہ روزہ دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر کسی کو اس سے داخلہ نہیں ہو سکے گا روزہ میں جس تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے اور سب سے بڑی قربانی ہے پیاسا رہنا ہے اس لیے اس کو جو صلہ اور انعام دیا جائے گا ان میں سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی کا ہونا چاہیے اسی مناسبت سے جنت میں روزہ داروں کے داخلہ کے لئے جو مخصوص دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کی خاطر صفت سیرابی و شادابی ہے ریان کے لغوی معنی ہیں پورا پورا سہراب یہ بھرپور شرابی تو اس دروازہ کی صفت ہے جس سے روزہ داروں کا داخلہ ہوگا آگے جنت میں پہنچ کر جو کچھ اللہ تعالی کے انعامات ان پر ہوں گے ان کا علم تو بس اللہ تعالی ہی کو ہے جس طرح اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں بندہ کا روزہ بس میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا صلہ دوں گا رب العالمین رمضان مبارک میں خوب روزوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں