12

میرے پاس اس سے اچھا پتہ ہے! تحریر: عبدالوحیدشانگلوی

ایک شخص رات کو لیٹا ہوا تھا۔ کروٹیں بدل بدل کر اس کو نیند نہیں آرہی تھی۔ دل میں بےچینی تھی۔ آخر اٹھ کھڑا ہوا، کپڑے تبدیل کی، باہر نکل کر گاڑی اسٹارٹ کی اور بیٹھ گیا۔

اندھیری رات میں چلتے چلتے دور ایک مسجد نظر آئی، اس نے سوچا کہ مسجد میں جاکر دورکعت نفل کیوں نہ پڑھوں، تاکہ دل کی یہ پریشانی ختم ہو جائے۔ چنانچہ مسجد کی قریب گاڑی روک لیا، گاڑی سے اتر کر وضوء کیا اور مسجد میں داخل ہو گیا۔

جیسے ہی مسجد میں قدم رکھ لیا تو اندر ایک نوجوان نظر آیا جو اللہ کے سامنے رورہا ہے اور اللہ تعالی سے دعا مانگ رہا ہے۔ اس آدمی نے دل دل میں سوچا شاید اس کی کوئی حاجت ہوگی اس لئے اللہ تعالی نے مجھے بھیجا ہوگا۔

بس یہ آدمی دعا کرنے والے کے قریب گیا، جب وہ دعا سے فارغ ہو گیا تو اس نے سلام کیا اور پوچھا کہ بھائی کیا مسئلہ ہے آپ کیوں رو رہا ہے؟ اس نے کہا کل میری بیوی کا آپریشن ہے اور میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں اس لئے اللہ تعالی کے سامنے رو رہا ہوں۔

اس آدمی نےکہا: کتنے پیسے چاہیے؟ کہا: “دس ہزار”۔ بس اس نے دس ہزار روپے نکال کر دےدی اور کہا اس سے اپنی ضرورت پوری کرو، جیسا ہی اس نے رقم دے دیا تو دل کی وہ پریشانی ایک دم ختم ہوگئ۔

اس کے بعد اس شخص نے جیب سے ایک کارڈ نکالا اور کہا: جب بھی کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے رابطہ کرو، میں آپ کی خدمت میں حاضر رہوں گا۔ ضرورت مند نے دس ہزار تو رکھ لیا لیکن کارڈ لینے سے انکار کیا۔

اس شخص نے کہا: بھائی یہ میرا کارڈ ہے یہ رکھ لو اگر کوئی ضرورت پیش آجائے تو مجھ سے رابطہ کرو، لیکن حاجت مند نے کہا: میرے پاس اس سے اچھا پتہ ہے! کہا: بھائی! وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا رابطہ اس ذات کے ساتھ ہے جس نے آج تجھے بھیجا، جب بھی مجھے کوئی ضرورت پیش آئی گی یا میں غم زدہ ہو گا تو میں اس ذات سے مانگوں گا۔

دیکھئیے! جب بندہ اعتماد اور درد کے ساتھ مانگتا ہے تو اللہ تعالی اپنے غیب کے خزانوں سے دے دیتا ہے۔ رمضان کا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی کی طرف سے قبولیت کا خصوصی موقع ہے۔ لہٰذا اُس سے مانگوں وہ سب کچھ دینے والا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں