7

تعمیر پاکستان میں علماء کا کردار تحریر۔۔۔۔۔امداداللہ طیب کالم ٹائٹل۔۔۔پیام امداد

وطنِ عزیز کی حکومتوں کا ہمیشہ یہ المیہ رہا ہے کہ ہر کابینہ میں موجود چند ایک وزارء کی تان مذہب اور علماء پر آکر ٹوٹتی ہے۔ اپنے منصب وزارت سے کچھ زیادہ ہی بڑھ کر شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کی جاتی ہے

۔موجودہ حکومت جس کو تبدیلی سرکار کا نام دیا جاتا ہے۔اس کی کابینہ میں شامل وزیر موصوف جو پہلے وزارت اطلاعات کے منصب پر فائز تھے۔ اب اپنی قابلیت کے بل بوتے پر انہیں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا منصب دے دیا گیا۔ موصوف شروع دن سے ہی(مطلب حکومت کے آتے ہی) کچھ زیادہ ہی شاہ کے وفادار ہیں۔ آئے روز محب وطن حلقوں کےبارے میں ان کے بیانات سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ چند دن قبل موصوف نے اپنے ٹویٹ میں کم عمری کی شادی اور قیام پاکستان کے حوالہ سے ایک انگریزی آڑٹیکل کو بنیاد بنا کر علماء کے کردار کو داغ دار کرنے کی بے بنیاد کوشش کی.کہ قیام پاکستان کے وقت جید علماء پاکستان کے سخت مخالف تھے۔ پاکستان کو علماء کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ علماء سے زیادہ میں دین کو بہتر سمجھتا ہوں۔

موصوف ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ پر لیکن وزیر موصوف کا یہ بیان کہ علماء پاکستان کے مخالف تھے لاعلمی، جہالت اور تعصب پر مبنی ہے۔ وزیر موصوف خود تو ایڈووکیٹ ہیں لیکن ان کا تاریخ کا مطالعہ بالکل نہیں ہے۔

پاکستان ہندوستان میں آزادی کی تحریکیں کی بیشتر قیادت علمائے کرام نے کی ہے۔تحریک ریشمی رومال ہویا تحریک آزادی یا تحریک خلافت ان تحریکوں کی قیادت ہمیشہ علمائے کرام کے ہاتھ میں رہی ہے۔

تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ برصغیر میں 1919ء میں مولانا حسرت موہانی نے احمد آباد میں آزادی ہند کی کامل تجویز پیش کی۔اور ان کے بعد سب سے پہلے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ مولانا اشرف علی تھانوی نے 1928ء میں پیش کیا۔ مولانا دریا آبادی لکھتے ہیں کہ پاکستان کا تخیل خالص اسلامی حکومت کا قیام یہ سب بہت بعد کی آوازیں ہیں۔ پہلے پہل اس قسم کی آوازیں تھانہ بھون سے اٹھیں. تھانوی کی گفتگو میں یہ جز بالکل صاف تھا۔

برصغیر میں قیام پاکستان کے لئے جو کردار علماء نے ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ اور آئندہ نسلوں کے لئے تاریکیوں کے ہجوم میں روشنی کا ایک منارہ ہے۔

انگریز کو برصغیر سے بھگانے میں جو کردار علماء نے ادا کیا ہے وہ ایک علیحدہ موضوع کا حامل ہے۔ علمائے کرام نے تحریک پاکستان کے ہر اہم موڑ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کے تصور سے لے کر اس کے قیام تک علماء نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ تحریک پاکستان سے اگر علماء کا کردار ختم کردیا جائے تو تحریک پاکستان نامکمل ہے۔اور یہ بات آن دی ریکارڈ ہے، اگر یہ حضرات نہ ہوتے تو تحریک پاکستان کو کامیابی ملنا ناممکن تھی۔

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی قائداعظم کی حمایت پر مطالبہ پاکستان کے حق میں پیش پیش تھے۔ جس کی وجہ سے حضرت عثمانی کے متوسلین،متعلقین بھی انہی کے ساتھ تھے۔ اور یہی وجہ تھی جب 11 جون 1947 کے ریفرنڈم کا مسئلہ سامنے آیا تو قائداعظم نے آبدیدہ ہوکر علامہ عثمانی سے فرمایا کہ سہلٹ اور سرحد کی ذمہ داری آپ لیں میں انشاءاللہ ضرور اسلام نافذ کروں گا۔اور میرے حوالے سے آپ اس کا اعلان بھی کر دیں۔

پھر قائد کے اسی وعدہ پر علامہ عثمانی، مفتی محمد شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی نے سرحد کا طوفانی دورہ کرکے مطالبہ پاکستان کی راہ ہموار کی۔ اور سہلٹ کا دورہ علامہ عثمانی کے کہنے پر مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا اطہر علی سلہٹی، مولانا شمس الحق فرید پوری نے کیا۔اور مطالبہ پاکستان کی راہ ہموار کی۔ سہلٹ اور سرحد کے ریفرنڈم میں اگر یہ عظیم علماء ساتھ نہ ہوتے تو پاکستان کھبی ریفرنڈم میں کامیاب نہ ہوتا۔

مسلم لیگ کی حمایت میں حضرت حکیم الامت مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی نے مطالبہ پاکستان کے حق میں اپنا فتویٰ و فیصلہ تنظیم المسلمین کے نام 10 فروری 1938ءکو صادر فرمایا۔
اگر حضرت تھانوی کے مریدین عثمانی برادران، مفتی محمد شفیع، شبیر علی تھانوی_ عبدالکریم گمتھلوی، عبدالجبار ابوہری، مولانا مرتضی حسن چاندپوری،مولانا اطہر علی، مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری،مولانا ابراہیم بلیاوی، مولانا معظم حسین،سید سلیمان ندوی،مفتی محمد حسن امرتسری، مولانا خیر محمد جالندھری، مولانا اسماعیل بدایونی، مولانا داؤد غزنوی، اور دیگر علماء تحریک پاکستان میں حصہ نہ لیتے تو کیا پاکستان معرض وجود میں آتا؟

قیام پاکستان اور تقسیم ہند کا نقشہ جب تجویز کیا گیا تو اس پر غور کرنے کے لئے 9 جون 1947ء کو قائداعظم نے مرکزی اسمبلی کے تمام مسلم اراکین کا اجلاس دہلی میں بلایا۔ جس میں علامہ عثمانی، مفتی محمد شفیع اور دیگر علماء بھی شامل تھے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ 4 جولائی 1943ء کو مولانا اشرف علی تھانوی نے عثمانی برادران کو بلایا اور فرمایا 1940ء کی قرارداد پاکستان کو کامیابی نصیب ہوگی۔ میرا وقت آخر ہے اگر میں زندہ رہتا تو ضرور کام کرتا. مشیت ایزدی یہی ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن بنے۔ قیام پاکستان کے لیے جو کچھ ہوسکے کرنا، اور اپنے مریدین کو بھی اس کام پر ابھارنا۔

حضرت تھانوی کی کہی گئی یہ بات سچ ثابت ہوئی چشم فلک نے دیکھا کہ چار سال بعد پاکستان دنیا کے نقشے پر بڑی شان و شوکت سے ابھرا۔ اور تعمیر پاکستان کے بعد پہلی پرچم کشائی کے موقع پر علامہ عثمانی برادران اور دیگر علماء کو قائداعظم نے منتخب فرمایا اورمذکورہ علماء کو مبارک دیتے ہوئے فرمایا کہ مولانا یہ مبارکباد آپکو ہے آپ کی کوششوں سے ہی یہ کامیابی ہمیں نصیب ہوئی۔ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تحریک پاکستان کی تاریخ علمائے کرام کے تذکرے کے بغیر نامکمل اور ادھوری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں