16

ادھار کی زندگی۔ تحریر: آبیناز جان علی موریشس

اسکول اور یونیورسٹی کا دور زندگی کے سنہرے ایام کی یادوں میں شامل رہتا ہے۔ طلبا ان اداروں میں بہت چھوٹے اور ناپختہ عمر میں داخل ہوتے ہیں اورسند اور ڈیگڑی ہاتھ میں آنے کے بعدجب وہ وہاں سے نکلتے ہیں تو سنِ بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں۔ یہاں سے سیکھی گئی تعلیم کی مدد سے انہیں نوکریاں ملتی ہیں جن سے زندگی آسان ہوجاتی ہے۔ اسکول اور یونیورسٹی نوعمر طالبِ علموں کو وہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے میل جول بڑھاسکیں کیونکہ ان اداروں کے احاطے میں آنے والے پیشہ وارانہ اور سماجی زندگی کا نمونہ محیط رہتاہے۔ تاہم علم حاصل کرنے کا سلسلہ مرتے دم تک رہتا ہے۔ اسکول اور یونیورسیٹی سیکھنے کی تربیت دیتے ہیں اور اسی سیکھ کی مدد سے انسان میں اتنی پختگی آجاتی ہے کہ وہ اپنے بل پر ایسی صلا حیتیں اور ہنر اپناتا رہے جو اسے آگے جانے میں آسانی عنایت کرتے رہیں۔ وقت تیزی سے بدلتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کو بھی نئی معلومات اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوکر اپنی شخصیت کو نکھارتے رہنا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد انسان اپنا استاد بن کر اپنی تربیت کرکے اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ زندگی میں کامیابی پانے کے لئے رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ کئی اور آلہ درکار ہیں۔ انسان عموماًدوسروں کی سوچ کا زیادہ خیال کرتا ہے اورایسے میں اپنی روح کی آواز کو نہیں سن پاتا۔ لوگ کیا سوچیں گے؟ میری والدہ کیا سوچیں گی؟ سماج کیا کہے گا؟ ایسے سوالات میں منہمک ہو کر ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر کسی کی اپنی تقدیر ہے۔ ہماری روح بار بار ہمیں بلندیوں تک پہنچنے کے لئے اکساتی رہتی ہے تاکہ ہم پوری طرح زندگی کے لطف و کرم سے استفادہ کرسکیں اور بہتر انسان بننے کی مثال قائم کرسکیں۔ اکثر لوگ اپنی روشنی کو کم کر دیتے ہیں تاکہ وہ دوسروں کی دنیا میں بس سکیں۔ اس طرح وہ مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں، بیمار ہوجاتے ہیں اور زیادہ تر زندگی سے مایوس رہتے ہیں۔ اگر وہ اس حصار سے باہر نکل کر دیکھ سکیں تو زندگی لافانی اور لا محدود ہے۔ زندگی جب پستی کی طرف ڈھکیلتی ہے تو اس سے باہر نکلنے کا یہی راستہ ہوتاہے کہ ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں۔ یہ وقت خود سے سوال کرنے کا ہے۔ ایسے سوالات جو ہمیں تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آئیں گے۔ اگر ہم تدبر کریں کہ اس وقت میری زندگی میں کیا رونما ہورہا ہے؟ میں یہاں کس لئے آیا ہوں؟ میں کس طرح اپنے نور سے دنیا کو منور کرسکتا ہوں اور عالم کو فیض پہنچا سکتا ہوں؟ مجھے خدا نے دنیا میں کیوں بھیجا ہے؟ ایسے سوالات سے آگے جانے کا راستہ ضرورنکل کر سامنے آتا ہے۔ صرف اپنے درد کا درماں ڈھونڈنے، یا اس مہینے کرایہ بھرنے کے ذرائع میں سر دھننے یا میں اب کیا کروں جیسے سوالات سے آگے منزل کی طرف نہیں بڑھ پائیں گے۔ تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی اقبال خدا سے اگر اپنی زندگی کا مقصد طلب کریں تو وہ ہمارے لئے جوابات ضرور بھیجے گا کیونکہ وہ ہر وقت دعا قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ خواب کے ذریعے، زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے ذریعے یا لوگوں کو مہرہ بنا کر خدا راستہ دکھاتا رہتاہے۔ اکثر لوگ مشکل حالات میں ایسے سوالات کرتے ہیں جن سے ان کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کس کی غلطی ہے؟ ایسا میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے؟ ایسے سوالات سے منفی جوابات ہی ملیں گے اور ہم اپنی قسمت کو کوستے رہیں گے۔ خلوص سے اپنے حالات پر منطقی نظر رکھنے سے لوگ آگے بڑھ پاتے ہیں اور سرفراز ہوتے ہیں۔ کوئی قید خانے میں بند ہے یا اپنے ذہن میں ماضی کی گرفت سے باہر نہیں نکل پارہاہے، ایسی صورتِ حال میں صحیح سوال کرنے سے اپنے حالات کا پتہ چلتا ہے اورخدا پریشانیوں کی دلدل سے نکالنے والا ہے۔ قوتِ سامعہ ایک کھویا ہوا فن ہے۔ ہم بس اپنی بات کہنے میں منہمک رہتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کوسننے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ یہ ایک روحانی مشق ہے۔ ہمارے چاروں طرف خدا کی عظمت کے نمونے موجود ہیں۔ خدا کی عنایتوں اور مہربانیوں کی عدم موجودگی ہم کو ہر وقت آگے جانے کا راستہ دکھا تی رہتی ہے۔ خدا ہمارے ذریعے دوسروں تک کیا پیغام پہنچانا چاہتا ہے؟ وہ کیا چاہتا ہے کہ ہم دنیا میں کون سا کارنامہ انجام دیں؟ خاموشی میں اپنے اندر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ساکت و جامد رہنے کی مشق سے ذہنی انتشار پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ جب کامیابی ہاتھ آنے لگتی ہے تو نکتہ چینی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان لوگوں سے رشتہ توڑ نے میں بھلائی ہے جو راستے میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں یا ہماری صلاحیتوں پر احتجاجی لہجہ استعمال کرتے ہیں اور ہماری قابلیت پر شک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لوگوں کا کام ہے کہنا، وہ بات کرتے رہیں گے چاہے ہم کامیاب ہوں یا ناکام ہوں، دنیا پھر بھی بات کرتی رہے گی۔ اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور دنیا کی باتوں کا خیال کئے بغیر آگے بڑھنا ہے۔ کامیابی کی اونچی چوٹی پر انہیں لوگوں کی موجود گی راحت پہنچاتی ہے جو ہماری صلاحیتوں اور کوتاہیوں کے ساتھ اپناتے ہیں۔ زندگی قدم قدم پر کچھ نہ کچھ سکھاتی رہتی ہے اور ہمیں آگے بڑھتے جانا ہے۔ دوسروں کی منفی ذہنیت کا قطعی خیال نہیں کرنا ہے۔ ہمیں اپنی توجہ بس خدا پر رکھنا ہے جو ہمارا خالق ہے جس نے ہمیں اتنی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جو لوگ اپنی غلط سوچ سے ماحول کو آلودہ کرتے ہیں ان کے منفی افکارکو اپنانے کی بجائے اپنی محبت اور مثبت سوچ کو ہر جگہ پھیلانا ہے۔ کچھ لوگ دوسروں کے خواب کا تعاقب کرتے ہیں۔ وہ زندگی میں وہ بننا چاہتے ہیں جو ان کی والدہ یا والد نے ان کے لئے دیکھے ہیں یا جس کے بارے میں ان کے استاد نے انہیں ہدایت دی ہے۔ ہر کسی کے اندر ایک چنگاری ہے اور اپنے اغراض و مقاصدکی جانب اسی لو کے سہارے بڑھنا ہے۔ اسی سے ہماری روح نشونما پاتی ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے ہم میں کچھ خواب تھے جس سے ہم قرۂ ارض میں اپنی چھاپ چھوڑنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد معاشرے کی توقعات حملہ آور ہوتی رہیں۔ ہم کسی خاص مقصد کے تحت زندگی میں آئے ہیں۔ دنیا میں اپنی چھاپ چھوڑنے کے لئے آئے ہیں۔ یہ چھاپ کسی خاص مصرف کے تحت ہماری روح کا جزو بنی ہے۔ دنیائے فانی سے کوچ کرنے سے پہلے ہم اس دنیا میں کیا چھوڑنا چاہتے ہیں؟ یہ دنیا ہماری موجودگی سے کیسے متاثر ہوگی؟ ہمارے جانے سے پہلے ہمارا معاشرہ کیسے بہتر ہوگا؟ ان سوالات کے جوابات سے وہ وجوہات سامنے آتے ہیں جن کی وجہ سے ہم دنیا میں لائے گئے ہیں۔ ہماری ہستی صرف اس جسدِ خاکی تک محدود نہیں ہے بلکہ ہم ایک خوبصورت روح کے مالک بھی ہیں۔ تغیر روح سے آتی ہے۔ جب روح میں تبدیلی بیدارہوتی ہے، اس وقت ہماری زندگی بھی بدلتی ہے۔ جو لوگ کینہ یا غصّہ کی زد سے باہر نہیں نکلتے وہ اپنی ہی ترقی کو روکتے ہیں۔ جس حقیقت کو گرہ باندھ لیتے ہیں وہی تجربے کے طور پر زندگی میں سامنے آتے ہیں۔ اکثر ہمیں خود اندازہ نہیں رہتاکہ ہمارے اندر کون کون سی صلاحیتیں پنہاں ہیں۔ جدید معاشرہ ہمیں مادہ پرستی کی طرف ڈھکیلتا رہتا ہے جس کی وجہ سے خوف، شک اور پریشانی پیچھے پڑجاتے ہیں۔ اس لئے ہم ان چیزوں کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں جن سے ہمیں لگتا ہے خوشی نصیب ہوگی لیکن اگر غورکیا جائے ہمارے اندرہی ایک خوبصورت دنیا ہے جو باہر آنے کے لئے اتاؤلی ہے۔ دراصل ہماری سوچ ہی حقیقی جامہ پہن کر سامنے آتی ہے۔ دنیا کا نظام ہمارے حق میں کام انجام دے رہا ہے۔ جس چیز کو پانے کی شدید خواہش ہو اس پر فتح پائی جاسکتی ہے۔ بالآخرپوری کوشش کرنے کے بعد چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے انہیں خدا کے ہاتھ میں چھوڑنا مناسب ہے کہ وہی نیک اجر دینے والا ہے۔ انسان سب سے پیچیدہ مخلوق ہے۔ انسان ہی دوسروں کی مخالفت کرتا ہے اور انسان ہی پستی سے نکل کر، غلاظت سے ابھر کر اور بیماری، شراب نوشی اور دیگر امراض سے نکل کر سرفرازی کا راستہ اپناتا ہے۔ تعریف و توہین کا خیال نہ رکھتے ہوئے اپنے کام پر دھیان دیں اور آگے بڑھتے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں