21

دارس پرایک آنکھیں کھول دینےوالی تحریر

علامہ اقبال نےکہاتھا : ”ان مدارس کواپنی حالت پررہنےدو ، اگریہ مدارس اور اس کی ٹوٹی ہوئی چٹائیوں پربیٹھ کر پڑھنےوالےیہ درویش نہ رہے ، تو یادرکھناتمہارا وہی حال ہوگا جو میں اندلس اورغرناطہ میں مسلمانوں کادیکھ کرآیا ہوں“۔
چند دن پہلےعیدالاضحی گزری ہے ، میں عید سےاگلےدن بائیک پرجارہاتھا کہ ایک مدرسہ کےسامنےسےمیراگزرہوا میں نےدیکھا کہ اس کےگیٹ پرچندچھوٹےچھوٹےمعصوم سےبچےکھڑےہیں ، ان کےچہرےنورانیت سےبھرپورتھے، میں ان کےپاس چلا گیا ، سلام کیا انہوں نےبہت احترام کےساتھ سلام کاجواب دیا،میں نےکہا بیٹا آپ کیا کرتےہویہاں؟ انہوں نےکہا بھائی ہم یہاں حفظ کرتےہیں ، میں نےکہا عید پر آپ گھر نہیں گئے؟ ان میں سےایک دو تو آنکھوں میں آنسوبھرکر اندرچلےگئےاور باقیوں نےرندی ھوئی آواز میں کہا ہمیں کوئی لینےنہیں آیا ہم بہت دورچترال سےآئےہیں بابا کہتےتھےکرایہ نہیں ہےتم وہیں رہو ، میرا دل بھی ایسےبوجھل سا ہو گیا ، میں نے کہا آپ کو آئےہوئےیہاں کتنا عرصہ بیت گیاہے؟ انہوں نےکہا ہم پچھلی عید پر بھی یہیں تھے ۔
میں نےاپنی پاکٹ سےروپئےنکالےاوران کو سو سو روپیہ دینا چاہا ، پر آفرین ان کی تربیت پر کسی نےبھی ہاتھ بڑھا کرنہیں لیے ، بلکہ سب اندرچلےگئے ، میں بوجھل سی طبیعت کےساتھ آگےبڑھ گیاکہ یہ ہیں وہ مدارس کےطلباء جن کو لوگ حقارت کی نگاہ سےدیکھتےہیں ۔
میں بھی انہی مدارس سےہوتا ہوا آیا ہوں اس جگہ پر۔ میں نے ان مدارس کےاندرکےمعاملات کو دیکھا ہے ، جب مدارس کےشیوخ مہینےکےآخری ایام میں بہت پریشان دکھتےتھےکہ اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگربل کیسےادا کیےجائیں؟ یار سوچو کون سا ایسا پرائیویٹ یاسرکاری ادارہ ہےجو اس قدرسکالرشپ دیتاہے؟ ملک کےطول و عرض میں سینکڑوں ایسےمدارس ہیں جن میں رہاشی طلباء کی تعداد ہزاروں تک جاتی ہےلیکن ان کےکھانےرہائش کتابیں میڈیسن مکمل اخراجات مدرسہ کےذمہ ہوتےہیں ، کیا ہےکوئی ایسی یونیورسٹی جس کا ہاسٹل اور میس فری ہو؟
یہ دین کےادارےدین کےقلعہ ہیں ، انہیں اداروں سےاسلام علماء اوراسکالرپیدا ہوتےہیں جو اسلام کےخلاف ہونےوالےاعتراضات کا منہ توڑ جواب دیتےہیں ۔
بات کہاں نکل گئی … میں بات مدارس کےاندرپڑھنےوالےان درویشوں کی کررہا تھا ۔ جو دوردراز کےعلاقوں سےاپنےگھربار ماں باپ بہن بھائیوں کی محبت کو چھوڑ کرآتےہیں ، صرف اس لیےکہ ان کےماں باپ کی ایک بہت معصوم سی خواہش ہوتی ہےکہ چلو کیا ہوا اگر گھر کی دیواروں پرغربت اور افلاس ناچتا ہے؟ہمارےبچےحافظ قرآن بن جائیں ! عالم دین بن جائیں ! روز قیامت عزت والا تاج تو ہمیں نصیب ہو جائےگا نا !
مجھےیاد ہےکہ جب کبھی کسی عید وغیرہ کے موقعہ پرچھٹیاں ہوتیں تو سب اپنےاپنےگھروں کی راہ لیتے ، ان میں کچھ ایسےبھی ہوتےتھے جو خود جا نہیں سکتےتھےاور لینےوالےاس لیےنہیں آسکتےتھےکہ ان کےپاس آنےکےلیےکرایہ نہیں بن پاتا تھا ۔ اور پھر وہ اسی مدرسہ کےاندر ہی اپنی خوشیوں کی قربانی اپنےماں باپ کی معصوم خواہش پرقربان کیےاپنےساتھیوں کے ساتھ کھیل لیتے ۔
ان مدارس کےطلباء کو کبھی حقیرنہ جانو! آپ نہیں جانتےان کےمقام کو ، یہ جب چلتےہیں ان کےقدموں کےنیچےاللہ کےفرشتےاپنےپروں کوبچھانا اپنےلیےباعثِ فخرمحسوس کرتےہیں ۔ سمندرکی مچھلیاں ، فضاؤں میں پرندے زمین کےاندرحشرات ان کی کامیابی کی دعا اللہ رب العزت سےمانگتےہیں ، عام طور پر لوگ یہ سمجھتےہیں کہ مدرسوں میں داخل وہی ہوتےہیں جو ہرطرف سےریجیکٹ کر دیےجائیں ، اگر ایسا بھی ہےتو بھی لوگوں کو ان مدارس کا شکرگزار ہونا چاہیے ، جنہوں نےایسےبچوں کو گلیوں میں آوارہ نہیں ہونےدیا بلکہ ان کو داخلہ دےکرقرآن وحدیث کی تعلیم دی۔ وہی بچہ صوم و صلوة کا پابند، ماں باپ کا فرمان بردار اور ایک عالم دین بن کر لوگوں کےایمان کی فکر کرنےلگا۔
ان مساجد و مدارس کےساتھ محبت کریں! دینی تعلیم کےلیےاپنےبچوں کا رخ ان کی طرف کریں! اور ہر لحاظ سےان مدارس کےمعاون بن جائیں….. شکریہ

کاپی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں