26

“”ایک سوچ ظفروال کے صحافی دوستو ں کی نذر””

صحافت کو کسی بھی ریاست میں بنیادی ستون قرار دیا جاتا ہے ۔جاندار۔ مثبت اور سچائی پر مبنی صحافت ملک کی تعمیروترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔بڑے کہتے ہیں صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے یہ جو دیکھتا ہے اسے لفظوں کے سانچے میں ڈال کر معاشرے کے سامنے پیش کرتا ہے جس سے معاشرہ اچھے اور برے نتائج مرتب کرکے اپنی منزل کا تعین کرتا ہے ۔
المیہ یہ ہے کہ شعبہ صحافت میں ایسے لوگ شامل ہوگئے جو صحافت کی ابجد سے بھی واقف نہی۔میرے شہر ظفروال میں گذشتہ چند سالوں میں ایسے ایسے چہرے صحافت میں شامل ہوئے ہیں جن کو میری دانست میں صحافت کے Sapeling بھی نہی آتے صرف ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی یا پھر حادثاتی طور پر صحافت میں شامل ہوگئے۔بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے مگر یہ ہے تلخ حقیقت کہ کچھ لوگوں نے اپنے کالے دھن کو سفید کرنے اور کچھ نے اپنے ذاتی کاروباری معاملات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کوقانون کی نظر سے بچانے کے لئے صحافت کو بطور Shelter استعمال کررہے ہیں
دوستو ! میں نے اپنی زندگی کے 18 قیمتی سال اس دشت کی سیاہی میں رنگین کئے ہیں ۔اپنا ایک ذاتی Mind set رکھنے کے باوجود ہر ایک کو برابر کی نظر سے دیکھا۔ بلا تفریق ہر حکومت ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے۔سیاسی ۔مذہبی ۔ سماجی ۔سوشل ۔ویلفیئر اور سپورٹس جیسی صحت مندانہ سرگرمیوں کو بھر پور Coverege دی ۔سینئر صحافیوں پر مشتمل Press Club میں کسی بھی عہدے کی طلب نہی کی پھر بھی احباب کی ذرہ نوازی کہ انہوں نے 16 سال مسلسل بطور General Secrerty خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کیا ۔جس پر میں ان کا تہہ دل سے مشکورہوں ۔
ہر ایک Stake Holder کی پالیسیوں پر کھل کر بلا خوف وخطر مثبت تنقید کی اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو بھی کھلے دل سے تسلیم کیا ۔اختلاف کیا مگر اختلاف رائے کو بھی برداشت کیا ۔ذاتی دشمنی یا تعصب نہی رکھا بطور اصلاح تنقید کی ۔ کبھی ذاتی مفاد حاصل نہی کیا ہاں البتہ ! جائز کام کے لئے سفارش ضرور کی Black mail کبھی نہی کیا۔
رائے کے اختلاف پر دوسری Press Club نہی بنائی۔ اسی میں رہتے ہوئے اصلاح بھی جاری رکھی ۔ پھر بھی بطور انسان بے شمار غلطیاں ہوئیں جن پر پوری قوم سے معذرت خواہ ہوں ۔
بدقسمتی سے آج جو احباب ہردوسرے ماہ اپنی رائے کے اختلاف پر Press Club بنالیتے اور ایک مافیاء کے آلہ کار بن کر آپس کے اتحاد و اتفاق کو اپنے ہی پاوں تلے روند رہے ہیں اور پھر یہ شکوہ کہ ہماری معاشرے میں کوئی عزت نہیں۔

زیبا نہیں ہے ہم کو شب تار کا گلہ
ہم نے تو خود قبائے سحر تار تار کی

صحافت کے اصول وضوابط سے نابلد افراد نے ظفروال میں لفظ ” صحافت ” کو گالی بنادیا ہے یہ ایک مقدس پیشہ تھا جسے ہم نے خود ہی بے توقیر کردیا ۔
میری ظفروال کے تمام چھوٹے بڑے صحافی دوستوں سے دست بستہ التجاء ہے کہ خدارا ! اب بھی وقت ہے اپنی اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر اس مقدس پیشے کی لاج رکھتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے آپس میں اتفاق و اتحاد سے ایک بن کر رہیں ۔
میں سمجھتا ہوں کام کرنے والے صحافی عہدے کے حریص نہی ہوتے ان کا مشن کسی عہدے کا محتاج نہی ۔
محترم دوستو ! رائے کے اختلاف پر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کھڑی کر کے قوم کو کیا پیغام دے رہے ہیں ۔کیوں ؟ کوئی مثبت سوچ نہیں سوچتا ۔کیوں اس مقدس پیشے کو بے توقیر کیا جا رہا ہے ؟
محترم دوستو ! خدارا اپنی اپنی انا قربان کر کے اور اپنےمفادات کو پس پشت ڈال کر قوم کے مفاد کو سامنے رکھیں ۔ اپنا ایک Mind set ضرور رکھیں لیکن کبھی بھی کسی ریاستی ادارے ۔سیاسی ۔مذہبی رہنماء کا آلہ کار نہ بنیں۔ سچائی کا دامن اور خبر کی تصدیق اپنا منشور بنائیں ۔Rateing کی دوڑ میں نہ پڑیں ۔
ہزاروں سلگھتے مسائل آپ کی توجہ کے منتظر ہیں انہیں اجاگر کیجئے۔ غریب اور پسے ہوئے طبقے کی معمولی غلطی کو نظر اندازکیجئے۔ مگر ان کے حقوق کے حصول کےلئے بھر پور آواز بلند کیجئے۔پھر دیکھئے آپ کو کیسا Protocole ملتا ہے ۔آپ ایک ادارے کے سربراہ کو جو محدود مدت کے لئے آپ کے ہاں Apoint ہوا ہے کی خوشنودی کے لئے اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ اپنے سارے اصول و ضوابط نظر انداز کردیتے ہیں ۔
دوستو ! Protocole لینا ہے تو عوام کا لیجئے جو اصل جج ہیں ۔جو اس ملک کے حقیقی وارث ہیں ۔
اگر ہم نے اپنی انا کے بت نہ توڑے تو پھر ظفروال کے صحافی دوستو !
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
آپ کا خیر اندیش
محمد بابر قیوم ۔ ممبر اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں