25

رپورٹ ملک فیصل سمرالہ گریسگردوں کے فیل یا ناکارہ ھوجانے کا آسان اور حیرت انگیز علاج

کراچی میں رھائش پذیر نوجوان جو گردے ناکارہ ھوجانے کے باعث کراچی میں موجود ملک کے مہنگے ترین اور معروف ترین ھسپتال میں گردے ناکارہ ھوجانے کے بعد داخل تھے اورانکے اھل خانہ سخت پریشان تھے اور ڈاکٹروں نے واضح کردیا تھا کہ ڈائلایسس (dialysis) کے سوا مزید کوئی راستہ نہیں اھل خانہ نے سخت پریشانی اور مایوسی کے عالم میں ایک بزرگ تک رسائی حاصل کی اور ان سے دعا اور دوا کی درخواست کی تو انہوں نے گردے ناکارہ ھوجانے کا ایک آسان غذائی علاج بتایا جو انہوں نے فوری طور پر شروع کیا اور ایک تیز رفتار شفاء کا سلسلہ مریض میں مشاھدہ کیا

واضح رھے ابھی ڈائلایسس (dialysis) کا آغاز نہ ھو سکا تھا کہ وقفے وقفے سے ھونے والے ٹیسٹ اور رپورٹس دیکھ کر کہ Creatinine اور Urea تیزی سے کم ھونے لگا حتیٰ کہ پوری طرح نارمل رینج میں آگیا، یہ صورت حال جان کر ڈاکٹروں نے حیرت کا اظہار کیا اور آخر کار مریض کو پوری طرح فٹ قرار دے کر ھسپتال سے فارغ کردیا، یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ میں اس نوجوان کی صحت یابی کا ذاتی گواہ بھی ھوں، علاج جو ان عالم دین نے عطا کیا وہ کیا تھا؟ ملاحضہ ھو

سهانجنے (Moringa Leaves) جسے سجنا بھی کہتے ہیں کی بہت سی پتیاں سائے میں پوری طرح خشک کرکے اسکو پیس کر پاوڈر بنا لیا جائے اور مریض کو روزانہ ایک چمچہ صبح شام پانی کے ساتھ استعمال کرایا جائے اور اسی آسان طریقہ علاج سے آج مریض پوری طرح شفایاب ھے الحمد اللہ

اسکا تیار شدہ پاؤڈر بیرونی ممالک سے بھی آتا ھے جو بڑے اسٹورز پر (Moringa Leaves Powder) کے نام سے دستیاب ھے

ھومیوپیتھک طریقہ علاج میں اسکا عرق مورینگا اولیفیرا مدر ٹنکچر(Moringa Olifera Q) کے نام سے دستیاب ھے لیکن یہ زیادہ موثر ثابت نہیں ھوسکا اسکے سائے میں سکھائے ھوۓ پتوں کا پاوڈر نہایت طاقت ور ٹانک بھی ھے، ھر طرح کی طاقت حاصل کرنے کے لئے اسکا استعمال دنیا کے کئی ممالک میں رائج ھے

اللہ نے انسان کو دو گردوں سے نوازا ہے۔ یہ اصل میں غدود ہوتے ہیں پسلیوں کے نیچے، پیٹ کی طرف، کمرمیں دائیں اور بائیں طرف واقع ہوتے ہیں۔گردہ 11 سینٹی میٹر لمبا، کم و بیش7 سینٹی میٹر چوڑا اور 2 یا 3 سینٹی میٹر موٹا ہوتا ہے۔ ہر گردہ میں 10 لاکھ سے زائد نالی دار غدود ، نیفران ،یا فلٹر(جھلی) ہوتے ہیں، گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 1500 لیٹر خون گزرتا ہے۔

گردوں کا کام جسم سے فاسد ،نقصان دہ، ضرورت سے زائد مادوں کو خارج کرنا ہے۔ گردے جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں، مثلاََ جسم میں کیلشیم، پوٹاشیم ا ور فاسفورس کی مقدار کے علاوہ پانی اور دیگر نمکیات وغیرہ کا ایک حد تک جسم میں رہنا ضروری ہوتا ہے اس کی کمی و بیشی سے بہت امراض جنم لیتے ہیں ،انسان زندہ نہیں رہ سکتا، گردوں کا کام ان مادوں ،نمکیات اور پانی میں توازن قائم رکھنا ہے۔ گردے جسم کے لیے ایسے بہت سے مفید ہارمون پیدا کرتے ہیں ،اگر یہ ہارمون جسم میں کم ہو جائیں تو خون کی کمی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔

گردے فیل ہونے کی بہت سی وجوہا ت ہیں جن میں چند اہم درج ذیل ہیں۔ گردے کی جھلی کی سوزش، جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ہوتے ہیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹرکرنا ہے، یہ جھلی اگر کام نہ کرے، کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ہونا شروع ہو جاتیں ہیں جس سے گردہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس سے پیشاپ کے اندر چربی یا خون آنا شروع ہو جاتا ہے گردہ فیل ہونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ہی بنتی ہے۔ دوسری وجہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے ،اگر شوگر کا مرض ہو تو اس کے عموماََ 10 تا 15 سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے بھی گردے خراب ہو جاتے ہیں، بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ہو سکتا ہے۔

موسم گرما میں جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کم پانی پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور موسم سرما میں سردی کی وجہ سے کم پانی پیا جاتا ہے، جس سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جو گردوں میں پتھری کا سبب بنتا ہے، یہ پتھری پیشاب کے ذریعہ خارج نہیں ہو سکتی، گرودوں کی جھلی میں زخم بنتے ہیں ،جو سوزش کا باعث بن جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ گردوں کے فیل ہونے کی طرف بھی لے جاتے ہیں ۔یعنی پانی کی کمی گردوں کے فیل ہونے کا تیسرا بڑا سبب ہے۔ جھلی کی سوزش، شوگر، بلڈ پریشر، پانی کی کمی وغیرہ دیکھا جائے تو یہ سب پانی کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے علاوہ ازیں پانی کا صاف نہ ہونا بھی اس میں شامل ہے۔

یہ تو مختصر ذکر گردوں کے فیل ہونے کی وجوہات کا تھا اسی طرح گردوں کے فیل ہونے کی اقسام بھی ہیں مثلاََ اچانک گردوں کا فیل ہو جانا، اس کی وجہ شدید گرمی میں پانی کی شدید کمی، خواتین میں زچگی کے دوران خون اور پانی کی کمی، ہائی بلڈ پریشرکا شدید دورہ اور سانپ کے کاٹ لینے اور بہت زیادہ مشقت کرنے وغیرہ سے اچانک گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ ایک اہم نقطہ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، جھلی کی سوز ش وغیرہ سے مریض کے گردے پہلے سے کمزور ہوتے ہیں اس پر ذرا سی اونچ نیچ، مثلاََ ناموافق دواکھا لینا، بلڈ پریشر کا گر جانا یا بڑھ جانا، بہت زیادہ پسینے کا آ جا نا اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر اچانک گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ گردوں کے فیل ہونے کی دوسری قسم ہے مستقل گردوں کی خرابی اس میں 50 فیصد تو گردے پہلے خراب ہوتے ہیں، جن کے مناسب علاج، پرہیزسے ان کو زیادہ دیر تک کارآمد رکھا جا سکتا ہے اور اگر ان کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو رفتہ رفتہ گردے فیل ہو جاتے ہیں۔

یہ بات بہت قابل توجہ ہے کہ جب تک گردے 80 یا 90 فیصد تک تباہ نہ ہو چکے ہوں مریض کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا وہ اپنا روز مرہ کا کام کرتا رہتا ہے، ایک گردہ ناکارہ بھی ہو جائے تو بھی دوسرا کام کرتا رہتا ہے، اسی طرح یہ بات بھی توجہ چاہتی ہے کہ جب گردے ایک بار مکمل ناکارہ ہو جائیں تو ڈائلایسس (dialysis) ھی سے علاج کی ابتدا ھوتی ھے

اگر کسی کو درج ذیل علامات میں سے کوئی علامت محسوس ہو تو ٹیسٹ کروا کر بیان کردہ علاج کو ابتدائی طور پر آزمانے میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ بیان کردہ علاج غذائی ھے اور ایک سے زیادہ مریضوں نے اس کے نتائج کی تصدیق کی ھے، کھانے کی خواہش کا ختم ہو جانا، یادداشت کی کمزوری ،متلی اور قے کا آنا، چڑچراپن، تھکاوٹ کا محسوس ہونا، چہرے کا رنگ پیلا ہونا، خشک جلد، رات کو بار بار پیشاب آنا اور پیشاب میں رکاوٹ وغیرہ کا ہونا، شوگر کا مرض ہونا، بلڈ پریشر کی کمی یا زیادتی کا ہونا وغیرہ

گردوں کی بیماری کا علاج اس کی اقسام اور سٹیج کے مطابق کیا جاتا ہے۔ عام طور پر 50 فیصد گردوں کے فیل ہونے کا سبب شوگر، بلڈ پریشر،گردوں کا انفیکشن وغیرہ بنتا ہے اگر ان کا علاج کیا جائے تو اس سے گردوں کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ گردوں میں پتھری ہو تو اس کا علاج ھومیو پیتھک دوا بر بیرس مدر ٹنکچر ھے، لیکن مکمل طور پر گردوں کے فیل ہونے کی صورت میں گردوں کی پیوندکاری ہی اس کا علاج بتایا جاتا ھے جس میں گردہ دینے والے اور لینے والے کا بلڈ گروپ ایک ہونا ضروری ہے گردہ دینے والے کاجتنا قریبی تعلق ہو گا اس کی پیوندکاری اتنی کامیاب بتائی جاتی ھے

ایسی تمام غذائیں جن میں فولاد زیادہ پایا جاتا ہے ان سے پرہیز کریں مثلاََ گوشت، چاول، مکئی، وغیرہ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی، کولا کے مشروبات، شراب نوشی وغیرہ سے پرہیز کریں۔ موٹاپا، زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا، ورزش نہ کرنے والے افراد پر دیگر امراض کی طرح گردوں کے فیل ہونے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں اس لیے صبح دو گلاس تازہ اور صاف پانی پینا ،ہلکی پھلکی ورزش کرنا،دن میں بھی پانی پینا ،کھانا کھانے کے فوراََبعد پانی نہ پینا چاہیے ،رات کو سونے سے گھنٹا بھر پہلے دو گلاس پانی پینا چاہیے، قبض نہ ہونے دیں ،اسی طرح دیگر حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے بہت سی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ مختصر صاف پانی کا زیادہ استعمال، ہر قسم کے نشہ سے پرہیز ،متوازن غذا، موٹاپے پر کنٹرول کرنے سے کافی حد تک اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

گردوں کے فیل ھوجانے کے حوالے سے کئی آزمودہ علاج اور بھی بیان کئے جاتے ھیں جنکا مجھے ذاتی مشاھدہ یا تجربہ نہیں البتہ انکو آزمانے میں کوئی نقصان نہیں یہ تمام غذائی علاج ھی ھیں جن میں چند درج ذیل ھیں

مرغی کے پوٹے کے اندر ایک زرد رنگ کی جھلی ھوتی ھے.اگر دیسی مل جائیں تو ٹھیک ورنہ فارمی جھلیاں اکٹھی کرلیں اور ان کو ساۓ پر خشک کرلیں اور خشک کرنے کے بعد کوٹ کر سفوف بنالیں اور اس خوراک کو صبح نہار منہ چوتھائ چمچہ دس دن تک لگا تار کھائیں دس دن کے اندر آپ کے فیل گردے ٹھیک ھوکر دوبارہ سے فل کام کرنے لگ جائیں گے

پانچ عدد انجیر ایک گلاس پانی میں ڈال کر رات کو رکھ دیں صبح پانچوں انجیر اور پورا پانی نہار منہ استعمال کرنے سے بتدریج گردے نارمل ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ھے

اصلی دیسی کاغذی لیموں لے کر ان کا ایک لٹر رس نکال کر کسی شیشے کی بوتل میں ڈا لیں اب اس بوتل میں پیلے رنگ کی سمندر میں پائی جانے والی سیپیاں سات آٹھ عدد اچھی طرح صاف کر کے ڈال دیں ۔ اس بوتل کا ڈھکن بند کر کے رکھ لیں۔ روزانہ صبح کے وقت اس بوتل کا ڈھکن کھول دیں تاکہ اس میں جمع ہونے والی گیس باہر نکل جائے ۔ اس کے بعد بوتل کا ڈھکن بند کر کے اس کو اچھی طرح ہلائیں۔ یہ عمل آٹھ سے دس دن روزانہ کرنا ہے۔ جب لیموں کے رس میں ڈالی گئیں “کوڈیاں” اس میں مکمل طور پر حل ہو جائیں اور بوتل کی تہہ میں سفید پاؤدر کی شکل اختیار کر لیں تو سمجھ لیں کہ آپ کا نسخہ استعمال کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ اب اس محلول کو اچھی طرح ہلا کر صبح خالی پیٹ ایک کھانے کا چمچہ ( کھانے والا چمچہ) اللہ کا نام لے کر پی لیں۔ اس کے ایک یا دو گھنٹے کے بعد ناشتہ کر لیں۔

سمندری سیپیاں سفید اور پیلے سمیت مختلف رنگوں میں دستیاب ھوتی ھیں آپکو پیلے رنگ کی سیپیاں استعمال کرنی ھیں جو با آسانی پنساری کی دکا ن پر دستیاب ھوتی ھیں

کسی مریض کو اس نسخہ کی ایک بوتل پینے سےمکمل فرق نہ پڑے تو وہ دو یا تین بار اسی عمل کو دہرائے حتیٰ کہ پوری طرح شفا یاب ھوجائے

مندرجہ بالالیموں اور سیپیوں والا نسخہ ہر قسم کی پتھریوں کو جو گردے مثانے پتے کی ہوں ان کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ھے

بشکریہ ڈاکڑ زائر حسین رضوی کراچی
— ہ———————————————————
طالب دعاء گو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں