16

نخلستان فطرانہ، تکبیر اور عید کی نماز۔ تحریر:آبیناز جان علی موریشس

اللہ رب العزت نے رمضان کے آخر میں تین چیزوں کا حکم دیا: زکات الفطر، تکبیر اور عید کی نماز۔
رمضان کے آخر میں عید سے پہلے اللہ کا فرمان ہے کہ فطرہ ادا کیا جائے۔ یہ فطرہ ہر اس مسلمان مرد، عورت، جوان اور ضعیف پر واجب ہے۔اس کی حکمت یہ ہے کہ عید کے دن حاجتمند مسلمان دولتمندوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں کیونکہ عید سال کا سب سے خوشگوار وقت ہے۔ یہ دن پورے مہینے کی عقیدت اور عبادت کے بعد بطور تحفہ نصیب ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر رمضان کے دوران بندے سے کوئی کوتاہی یا کمی و بیشی ہوئی ہو فطرہ اس کی طلافی کرتا ہے۔ نیز یہ خدا کا شکر ادا کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے کہ ربِ کریم نے ہمیں ایک اور رمضان نصیب فرمایا۔ یہ فطرہ عید کی نماز سے پہلے دی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ عام صدقہ میں شمار کیا جائے گا۔
صدقہ فطر میں عموماً کھجور، آٹا یا چاول دیا جاتا ہے یا کوئی ایسی غذا جو مقامی لوگوں کا روزمرہ کھانا ہوتا ہے۔ صدقہ الفطر اسی جگہ یا ملک میں دیا جاتا ہے جہاں روزے دار نے اپنا روزہ مکمل کیا۔ یہ زکات مقروض، ضرورتمند یا مفلوک الحال مسلمانوں کو دیا جاتا ہے تاکہ ایک دن کے لئے ان کا گذارا ہو سکے۔
رمضان کے متبرک مہینے کے اختتام میں اللہ نے ایمان والوں کو تکبیر کا فرمان دیا۔ عید کی صبح یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ تکبیر عید کا چاند نظر آنے کے بعد غروبِ آفتاب سے شروع ہوتی ہے ااورصبح عید کی نماز تک جاری رہتی ہے۔
اللہ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے حق میں دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔
۵۸۱:۲
اس پوری کائنات میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ ہمارے آس پاس کی دنیا اور پوری قرۂ ارض اللہ کی جاہ و جلال اور شان و شوکت کے سامنے ہیچ ہے۔ تکبیر مومنوں کی فتح کا نعرہ ہے اور برائی اور شیطانی طاقتیں اس عظیم خدا کے سامنے کچھ نہیں۔ تکبیر دلوں میں ایمان کو مضبوط تر کرتا ہے، یہ خدا کی فرمانبرداری کی دلیل ہے اور اللہ کے لئے اظہارِ تشکر بھی ہے۔ تکبیر اسی وقت کی جاتی ہے جب مومن جسمانی یا روحانی عظمت تک رسائی پاتا ہے جیسے رمضان کے روزوں کے آخر میں اپنی نفسِ امارہ پر فتح پانے کے لئے گراں قدر روحانی طاقت درکار ہے جو مومن کئی قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کرتا ہے۔ بے شک شیطان کو ہرانا اللہ کی طاقت اور رضا سے ہی ممکن ہوپاتا ہے۔
اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے وہی تعریف کے لائق ہے۔
مرد مسجدوں گھروں اور بازاروں میں اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے با آواز بلند تکبیر کا نعرہ لگاتے جاتے ہیں۔
عید کے دن اللہ اکبر کا نعرہ ہر سو گونجتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ رسولِ پرنورؐ پر درود بھیجی جاتی ہے اور دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ باآواز بلند تکبیر پڑھنا عید کے دن کی سب سے بڑی سنت ہے۔ اس دن خدا کی پاکی اور عظمت بیان کی جاتی ہے کہ ربِ کریم نے ہماری رہنمائی کی کہ ہم اس کا شکر ادا کرنے کی استطاعت رکھ سکیں۔سلف صالحین اپنے گھر سے نکلتے وقت عید گاہ تک تکبیر پڑھتے جاتے اور امام کے آنے تک تکبیر جاری رکھی جاتی۔ تکبیر کے پڑھنے کا وقت عید کی رات عید گاہ میں امام کے آنے تک کا ہے۔
عید عربی لفظ ہے جس سے مراد وہ جو حسبِ عادت کی جاتی ہے اور وہ جو آتا رہتا ہے۔ تہوار منانا ہر مذہب میں شامل ہے۔ یہ جشن منانے کے لئے ایک خاص دن ہے جہاں سب مل جل کر اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ تہوار سال کی شروعات کو منانے کے لئے، یا فصل یا پھر موسم کی ابتداء پر، یا کسی ریاست کے قیام پر، یا کسی بادشاہ کے تخت نشین ہونے پر منایا جاتا ہے۔
حضورِ اقدس ؐ کا فرمانا ہے کہ ”ہر قوم کا اپنا تہوار ہے اور یہ تمہارا تہوار ہے۔“
رسولؐ جب مدینہ منورہ تشریف لائے اس زمانے میں وہاں کے باشندوں کے لئے دو دن مقرر تھے جب وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے اور خوشیاں مناتے تھے۔ آپ ؐ نے فرمایا :’یہ کون سے دو دن ہیں؟‘ لوگوں نے جواب دیا ’ہم عہدِ جاہلیت میں ان دو دنوں پر کھیل تماشے کیا کرتے تھے اور خوشیاں مناتے تھے۔ رسولِ خداؐ نے کہا: ’اللہ نے تمہیں ان سے کچھ بہتر دیا ہے، عید الاظہا اور عید الفطر۔‘ (سنن ابی داؤد)
یہ دو عیدیں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور ان کے فلسفے کو سمجھنا اور اس دن کو منانا ضروری ہے۔
عید کے دن روزے رکھنا منع ہے۔ آپؐ نے ہمیشہ عید کے روز نمازِ عید پڑھی ہے اور اس دن کی نماز میں بہت ثواب ملتا ہے۔ اور یہ رسولؐ کی سنتوں میں شامل ہے۔ عید کی نماز عموماً سورج کے عروج ہونے کے بعد، دن کی روشنی میں منائی جاتی ہے۔ یہ دورکعتیں بابرکت ہیں۔ پہلی رکعت میں سات بار تکبیر پڑھی جاتی ہے اور دوسری رکعت میں پانچ بار تکبیر پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔
رسولِ خدا ؐ عموماًپہلی رکعت میں سورت الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورت الغاشیہ پڑھتے تھے۔ عید کی نماز کے بعد رسولؐ اپنا خطبہ فرماتے۔ آپؐ نماز میں تاخیر نہیں کرتے۔ عید کی نماز پورے معاشرے کو متحد کرتا ہے اور اسلام کے بنیادی پیغام کی نشاندہی کرتا ہے۔ نماز کے بعد مصافحہ کر کے تمام گلے شکوے دور ہوتے ہیں۔
عید کی نماز سے پہلے غسل کرنا لازمی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں عید کی تین سنتیں درج ہیں: عید گاہ تک چل کے جانا، غسل کرنا اور گھر سے باہر نکلنے سے پہلے کچھ کھانا۔ رسولِ خداؐ نمازِ عید کے لئے نکلنے سے پہلے صبح کچھ کھجور کھا کر نکلتے۔ عید کے دن روزہ نہیں رکھا جاتا اور یہ رمضان کے مہینے کے خاتمے کا بھی اعلان ہے۔ چنانچہ بندہ خدا کی اطاعت کرتے ہوئے روزے رکھنا ترک کرتا ہے۔
عید کے روز ایک دوسرے کو نیک خواہشات پیش کی جاتی ہیں کہ اللہ ہمارے اور تمہارے روزوں اور عبادتوں کو قبول فرمائے۔ انہیں کلمات سے صحابی ایک دوسرے سے ملتے وقت مخاطب ہوتے۔ ایک دوسرے کو مبارکباد کہنا خوش اخلاقی ہے اور یہ مسلمانوں کے الئے اعلیٰ سماجی اقدار ہیں۔ عید کے دن اپنی استعداد کے مطابق بہترین کپڑے پہنے جاتے ہیں۔
جبیرؒ سے روایت ہے کہ: رسولِ خداؐ کا ایک جبہ تھا جو وہ عید اور جمعہ کے دن پہنتے۔ عید کا خطبہ سننا مستحب ہے لیکن اس کا سماعت فرمانا فرض نہیں۔ انسان اگر چاہے تو خطبے سے اٹھ سکتا ہے اور اگر چاہے تو خاموشی اختیار کئے ہوئے خطبے کے لئے رک سکتا ہے۔
جابر ابن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسولؐ عید کے دن الگ راستہ لیتے۔ آپ پیدل عید کی نماز کے لئے نکلتے اور بغیر اذان یا اقامت کے نماز پڑھتے اور ایک الگ راستے سے باہر آتے۔ اس طرح قیامت کے دن دو مختلف سڑکیں آپ کے حق میں گواہی دیں گے کیونکہ قیامت کے دن قراۂ ارض وہ تمام اچھائیاں اور برائیاں بیان کرے گا جو اس میں کی گئی تھی۔ اس طرح رسولِ خدا ؐکے زمانے سے دونوں راستوں سے اسلامی تہذیب و روایت کا فروغ ہوپاتا۔ اللہ کا نام چہار سو پھیل جاتا اور لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہوپاتیں اور حسبِ ضرورت ان کی تائید و نصرت کی جاتی اور ان کے لئے اسلام کی بہترین مثال قائم کی جاتی اور حاجتمندوں کو خیرات دیا جاتا یا رشتے برقرار رکھنے کے لئے رشتے داروں سے ملاقات ہو پاتی۔
عید کا خاص مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اس نے ہمیں رمضان کے روزے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ عید خوشحالی لاتی ہے اور لوگوں کے ہونٹوں پر مسکان لاتی ہے۔ اس دن کی تیاری کے لئے رمضان کے شروع سے درزی کو سینے کے لئے کپڑے دئے جاتے ہیں۔ دکانوں پر خرید و فروخت کی غرض سے بڑی رونق لگی رہتی ہے۔ ایک دن پہلے ہاتھوں میں مہندی لگائی جاتی ہے۔ موریشس میں اسلامی ثقافتی مرکز کی جانب سے عوام کو مفت میں مہندی لگائی جاتی ہے تاکہ غیر مسلمانوں کو بھی اسلامی تہذیب سے روشناس کیا جاسکے۔ عید کے دن گھروں میں سوئیاں بنتی ہیں۔ اس کو میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دن زندگی میں مٹھاس گھولتا ہے۔ ننھے بچے عیدی پاکر خوشی سے جھومتے ہیں اور یہ تحائف کی تقسیم کابھی دن ہے۔
روزمرہ معمول اور مصروفیات میں ایک ٹھہراؤ آجاتا ہے اور اغزاء و اقرباء اور اہل و عیال کے ساتھ بیٹھ کر وقت گذارنے کا وقت ہے۔ موریشس میں اس دن عام طور پر بریانی پکائی جاتی ہے اوار پورا خاندان مل کر نوش فرماتا ہے۔ یہ عام چھٹی کا بھی دن ہوتا ہے۔ تمام مسرتوں کے باوجود زبان ذکرِ رب سے معطر رہتا ہے۔ رمضان میں سیکھی گئی نظم و ضبط اور روحانی طہارت کا احساس ابھی بھی سالم ہے اور یہ کیفیت عید کے پورے تین دنوں تک جاری و ساری رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں