18

تقدیر کا فیصلہ!

چوتھی صدی ھجری میں اندلس کا ایک حکمران گزرا ہے، جس کا نام منصور تھا۔ اس نے کسی جرم کی پاداش میں ایک شخص کو گرفتار کیا۔ مجرم کی والدہ نے حکمران سے درخواست کی کہ آپ اس پر رحم کرے، لیکن منصور اس مطالبے سے اور بگڑ گیا اور پھانسی دینے کا فیصلہ کرنا چاہا۔

وزیر کو بلا کر کاغذ قلم ہاتھ میں لیا، تقدیر کا فیصلہ تھا کہ ” اس کو پھانسی دے” کے بجائے یہ لکھا ” اس کو رہا کرے “۔ وزیر سے کہا میں نے کیا لکھا؟ اس نے کہا: آپ نے لکھا ہے کہ اس مجرم کو رہا کرے۔ منصور غصہ ہو کر کہنے لگا کہ مجھے سے لکھنے میں غلطی ہوگئ، اس کو پھانسی دینا۔

پھر یہ لکھا “اسے پھانسی دے” وزیر نے کہا: آپ نے لکھا ہے کہ اسے پھانسی دو۔ حکمران پھر آگ بگولا ہوگیا کہ مجھے سے غلطی ہوئی ہے،اس کو پھانسی دینا ہے۔

جب تین مرتبہ قلم سے آزادی کا پروانہ جاری ہوا تو منصور بھی تقدیر کے قاضی کے سامنے مجبور ہو گیا اور کہنے لگا: اسے میرے نہ چاہنے کے باوجود رہا کرے، اللہ جسے رہا کرنا چاہے، میں اسے نہیں روک سکتا۔

وہی ہوتا ہے جو تقدیر میں لکھا ہو، اور تقدیر وہی ہے جو فیصلہ اللہ نے پہلے سے کیا ہو، اگر حالات ناساز ہو جائے، یا کوئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تقدیر میں یہ لکھا ہو گا، جو آدمی تقدیر پے راضی ہو کبھی بھی پریشان نہیں ہوتا۔

تقدیر کے لکھے پر کبھی شکوہ نہ کر اے انسان
تو اتنا عقلمند نہیں کہ رب کے راز سمجھ سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں