21

وہ ملک جس نے آئندہ سال تک عراق اور افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کی واپسی کا اعلان کردیا

ویلنگٹن(ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈن نے کہا ہے کہ عراق میں جاری فوجی مشن ختم کرکے کیوی فوجیوں کی ملک واپسی کے انتظامات کا آغاز کردیا گیا ہے جب کہ افغانستان سے بھی کیوی فوجوں کا انخلاء آئندہ برس تک مکمل ہوجائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم جیسنڈرا آرڈن نے اپنے سابق موقف کے برخلاف عراق میں جاری فوجی مشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد عراق میں موجود کیوی فوجیوں کی ملک واپسی کا آغاز ہوگیا ہے۔عراق کے فوجی کیمپ ’تاجی‘ میں 90 کیوی فوجی تعینات ہیں جو آسٹریلوی فوجیوں کے ہمراہ امریکی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد کے تحت داعش جنگجوؤں سے مقابلہ کرنے کے لیے 2015 سے اب تک 42 ہزار عراقی فوجیوں کو تربیت دے چکے ہیں۔

قبل ازیں نیوزی لینڈ نے نومبر 2018 کو اپنے فوجی دستے کی عراق میں تعیناتی کی مدت میں جون 2019 تک اضافہ کر دیا تھا تاہم اب میعاد میں اضافے کے بجائے جنوری 2020 کو 45 اور بقیہ 45 کیوی فوجیوں کی واپسی جون 2020 تک مکمل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم جیسنڈرا آرڈن نے افغانستان میں بھیجے گئے کیوی فوج کے دستوں میں بھی کمی کا فیصلہ کرلیا ہے اور 20 سال سے تعینات فوجی دستے کو 2020 کے آخر تک تمام کیوی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ افغانستان میں 20 برسوں میں 8 کیوی فوجی ہلاک بھی ہوئے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں وزیراعظم جیسنڈرا آرڈن نے داعش کو دنیا کے لیے اب بھی خطرہ قرار دیتے ہوئے عراق اور افغانستان میں کیوی فوجیوں کی تعیناتی کی مدت میں ایک سال کا اضافہ کردیا تھا اور مدت پوری ہونے پر مزید اضافے کا عندیہ بھی دیا تھا تاہم اب انخلاء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں