27

وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہاس ملک میں احتساب کے نام ڈرامہ چلایا جارہا ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہاس ملک میں احتساب کے نام ڈرامہ چلایا جارہا ہے۔بجٹ سے ایک روز قبل آصف علی زرداری اور بجٹ والے روز حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کا مقصد عوام دشمن بجٹ جسے آئی ایم ایف کے نمائندے نے آج اسمبلی میں پیش کیا ہے، اس پر بحث نہ ہوسکے۔ملک میں نیب گردی، سیاسی انتقامی کارروائیوں اور مہنگائی کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کا احتجاج کراچی سے خیبر تک تمام شہروں، گاؤں، دیہاتوں میں ہورہا ہے اور یہ احتجاج عوام کو ریلیف دینے تک جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ڈسٹرکٹ سینٹرل کے تحت منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاج سے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے صدر ظفر صدیقی، جنرل سیکرٹری دل محمد، مرزا مقبول، شہزاد مجید، صمد گبول، شاہینہ سعید، زرین موسیٰ، قمر شیخ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر خواتین اور مرد جیالوں کی بڑی تعداد نے اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور موجودہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سیاسی انتقامی کارروائیوں، سیاسی نیب گردی اور مہنگائی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات و صدر پی پی پی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ان احتجاجی مظاہروں کے ذریعے ہم حکومت اور نیب کو واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے اس اوچھے ہتھکنڈوں اور گرفتاریوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری قیادت اور کارکنان کسی سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام دشمن اور غریب دشمن حکومت کا چہرہ بے نقاب کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دوائیوں، پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو جہاں لے کر گئے ہیں اس نے غریب کے ساتھ ساتھ اب مڈل کلاس طبقے کی بھی زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ احتساب نہ ہو۔ احتساب ضرور ہونا چاہیئے لیکن سب کے ساتھ برابر کا احتساب ہونا چاہیئے۔ اس ملک میں موجودہ حکومت نے مخالف سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بغیر شواہد کے گرفتار کرنا شروع کردیا ہے لیکن حکومت کے چہیتے وزیر اور اے ٹی ایم ہیں اور خرچے دینے والوں سے کچھ نہیں پوچھا جارہا۔ سعید غنی نے کہا کہ فریال تالپور پر جعلی طور جعلی اکاؤنٹس کے کیس بنا کر انہیں عدالتوں میں کھسیٹا جارہا ہے لیکن علیمہ خان سے کیوں نہیں ہوچھا جاتا۔ جہانگیر ترین اس ملک کا نااہل ترین شخص ہے اور اس کو تو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا ہے اور اس نے اپنے باورچی اور ڈرائیوروں کے نام سے بھی اکاؤنٹس کھولے ہوئے تھے ان کو کیوں نہیں پوچھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک اور اسد قیصر پر بھی کیسز ہیں اور انہوں نے ضمانت نہیں کروائی ہوئی انہیں کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا۔پرویز الہیٰ اور خسرو بختیار کے خلاف تمام شواہد موجود ہیں لیکن نیب انہیں کیوں گرفتار نہیں کرتی۔زلفی بخاری کے خلاف کیوں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ہم اس دھڑے معیار کے اس احتساب کے خلاف ہیں۔ سعید غنی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اگر احتساب کرنا ہے تو علیمہ خان کے خلاف بھی وہی کارروائی عمل میں لائی جائے، جس طرح فریال تالپور کے خلاف کی جارہی ہے، علیم خان کا بھی اسی طرح ہونا چاہیے، جس طرح شرجیل میمن کا ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری کابھی اسی طرح ہونا چاہیے، جس طرح جہانگیر ترین کا کیا جارہا ہے، سعید غنی نے کہا کہ نیب کا قانون پیپلز پارٹی کے لئے کچھ اور ہے اور تحریک انصاف کے لئے کچھ اور ہے، نون لیگ کے لئے کچھ اور ہے تو قاف لیگ کے لئے کچھ اور ہے۔یہ احتساب کے نام پر ڈرامہ ہے۔ یہ نیب گردی ہے، یہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہے۔جس کو اس ملک کے لوگ کسی صورت بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ سے ایک روز قبل آصف علی زرداری کی اور بجٹ والے روز حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کا مقصد عوام دشمن بجٹ جو آئی ایم ایف کا نمائندہ اسمبلی میں پیش کررہا ہے اس پر عوام کا دھیان نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے گذشتہ روز واضح کردیا تھا کہ عوام دوست بجٹ پیش کریں گے تو ہم آپ کا یہ بجٹ مل کر پاس کرائیں گے۔ آپ بھلے آصف علی زرداری گو گرفتار کرلیں اور مجھے بھی گرفتار کرلیں ہم کچھ نہیں کہیں گے لیکن آپ ہمارے ساتھ بھی دشمنی کریں اور عوام دشمن بجٹ دے کر عوام کے ساتھ بھی دشمنی کریں تو ہم کسی صورت یہ نہیں ہونے دیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ آپ ہمارے ایک ایک رہنماء اور کارکن کو گرفتار کرلیں لیکن ہم آپ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف بولتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوامی رابطہ مہم سے خوف زدہ ہوکر اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوامی رابطہ مہم کے ذریعے 11 ماہ میں معیشت کا جو حال موجودہ حکومت نے کہا ہے اور مہنگائی اور بے روزگاری کی ہے اس پر عوام کو آگاہ کرتے رہیں گے۔ گھروں اور نوکری دینے کی باتیں کرنے والے گھر اور نوکریاں چھین رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز ہوگا تو جو مظاہرے آج ڈسٹرکٹ کی سطح پر ہورہے ہیں وہ گلی گلی اور کوچے کوچے میں ہوں گے اور سب کا ایک ہی نعرہ ہوگا کہ ”گو نیازی گو، گو نیازی گو“۔

جاری کردہ : زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ وزیر بلدیات سندھ

وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی ڈسٹرکٹ سینٹرل میں حکومت مخالف مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ سینٹرل کے صدر ظفر صدیقی،دل محمد، مرزا مقبول، شہزاد مجید، صمد گبول، شاہینہ سعید، زرین موسیٰ، قمر شیخ اور دیگر بھی موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں