32

پنجاب حکومت نے نئے مالی سال2019-20کے لیے 23کھرب 60کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پنجاب حکومت نے نئے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کردیا جس کا کل حجم 23کھرب 60 کروڑ روپے رکھا گیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کی زیر صدارت بجٹ اجلاس ہواجس میں صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کیاجس میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 350روپے مختص کیے گئے اور اس میں پچھلے سال کی نسبت 47فیصد اضافہ ہوا۔ترقیاتی بجٹ میں غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبو کے لیے 60.5ارب روپے اور اختراعی فنانسگ کے لیے 42ارب روپے مختص کیے گئے ۔غیر ترقیاتی بجٹ 1298.8ارب روپے ہے جس میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 2.7فیصد اضافہ ہوا ۔صحت کے لیے 8.4فیصد اضافے کے ساتھ 308ارب50کروڑ مختص کیے گئے۔ زراعت کے لیے 23.8 فیصد اضافے کے بعد 113 ارب 60 کروڑ روپے رکھے گئے۔ عوامی تحفظ اورامن و امان پر181 ارب 60 کروڑ خرچ کرنےکی تجویز ہے، تنخواہوں کی مد میں 337ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، پنشن کے لیے 244اعشاریہ 90 ارب روپے مختص ہوں گے۔پبلک سیکٹر اور انفراسٹرکچر پر 149ارب 30کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے

پنجاب حکومت نے صحت کے لیے 8.4فیصد اضافے کے ساتھ 308ارب50کروڑ مختص کیے۔بہاولپور میں چلدر ن ہسپتال کے قیام ،ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کو مفت ادوایات کی فراہمی کے لیے 1.5ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ 2ارب روپے مالیت کا انصاف ہیلتھ انشورنس کارڈ پروگرام مختص کیا گیا ۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لیہ ،میانوالی ،لاہور ،رحیم یار خان ،راولپنڈی ،بہاولپور ،ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں اعلیٰ معیار ہسپتالوں کا قیام کیا جائے گا ۔پنجاب بھر میں تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی تعمیر نو کے لیے 3.5ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ مفت ادویات اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے 12ارب روپے مختص کیے گئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں