14

بارش کی دستک تحریر گلزار احمد

یہ منگل کی ڈھلتی دوپہر تھی جب ہم اعتدال کے دفتر کے نیچے بیٹھے محو گفتگو تھے کہ اچانک بادل کی گرج سنائی دی۔میرے ساتھ فیصل علی سیال آور ابوالمعظم ترابی ایک بہت ہی گہرے فلسفے پر بات کر رھے تھے۔ رم جھم کرتی بارش کی برستی بوندوں نے زور زور سے دستک دی تو محسوس ہوا آج ہماری محبوبہ آئی ہیں جن کا جلتے ہوۓ صحرا میں کھڑے ہم انتظار کر رہے تھے کتنے دنوں سے آنکھیں آسمان کی طرف جا کر رک جاتیں اور دھکتا سورج آگ برساتا نظر آتا۔آج ہماری آس مراد دعا پوری ہو رہی تھی ہم تینوں کمرے کے باہر نکل کر رم جھم رجھم پڑے پھوار تیرا میرا نت کا پیار دیکھنے لگے۔ ٹھنڈی ہوا اور بارش کے چھینٹے جب ہمارے چہرے س ٹکراتے تو برسوں کی پیاس بجھتی محسوس ہوتی۔میں نے اپنے دونوں ہاتھ بارش کے سامنے ایسے پھیلا دیے جیسے فقیر خیرات مانگتا ہے ۔بس ایک ٹھنڈک اور لمس کا ایسا احساس ہوا جیسے صدیوں سے بچھڑے مسافر کو یار گلے ملا لے۔فیصل سیال ایک خوبصورت اور ذھین نوجوان ہے جو اسٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کا صوبائی صدر ھے۔ فیصل مجھے ڈھونڈتے ہوۓ حظیفہ سنٹر اس امید پر آ نکلا کہ شاید ڈیرہ کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وہ جو جزبات اور خواہشات رکھتا ہے اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے میں کئی تجاویز دے سکوں۔ مجھے اس نوجوان کے ٹیلنٹ اور جذبے نے بہت متاثر کیا۔ میں ایسے نوجوانوں کو بہت پسند کرتا ہوں جو ستاروں پر کمند ڈالنے کا جذبہ رکھتے ہوں آج ہمارا معاشرہ گفتار کا غازی اس طرح بنا کہ چرب زبان کا مقام حاصل کر لیا کردار کا غازی تو کیا بنتا آداب زندگی سے عاری ہو گیا۔فیصل کے اندر ایک چنگاری ہے جو شعلہ جوالا بننا چاہتی ہے ایک امنگ ہے ایک تڑپ ہے ڈیرہ کو آگے لے جانے کی کچھ کرنے کی کچھ سنگ میل طے کرنے کی۔ ہمارے نوجوانوں میں کچھ کرنے کے طوفانی جذبے جنم لیتے ہیں لیکن رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ سرد پڑ جاتے ہیں۔ آج کا نوجواں ایک نقل مار بندر بنا دیا گیا اسے طوطے کی طرح رٹایا جاتا ہے اس کی تخلیقی صلاحتیوں کو دبا دیا جاتا ہے اور معاشرے میں نہ کوئی نئی ایجاد آتی ہے نہ تخیل۔۔۔بس ایک بھیڑ چال میں لوگ پی ایچ ڈی کر لیتے ہیں ۔بابا بلھے شاہ نے کیا خوب کہا ہے ۔۔تو علموں بس کریں او یار۔۔ تینوں ہک الف درکار۔۔۔نوجوان کیا کریں ان کا گلا تو اہل مدرسہ وسکول نے گھونٹ کے رکھ دیا کہاں سے صدا آے لا الہ الا اللہ۔ہم نے فیصل کو مشورہ دیا کہ وہ کچھ ٹارگٹ متعین کریں کبھی بے سمت سفر نہ کریں ایک ٹارگٹ کو حاصل کر کے دوسرا تیسرا یوں قدم بہ قدم پرواز جاری رکھیں۔ہماری خدمت ہر قدم پر جاری رہے گی۔ فیصل کی باتیں سن کر دل خوش ہوا کہ ہمارے شھر میں ایسے نوجوان بھی ہیں جو فیس بک کو چھوڑ کر حقیقی علم کی تلاش میں رہتے ہیں۔اگر ڈیرہ کا یوتھ حقیقی ترقی اور علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے فیس بک سے جدا ہونا پڑے گا فیس بک کا ایک پیریڈ مقرر کرے اور باقی وقت کتابوں اور عملی کام میں مگن رہ کر آگے بڑھے۔ہم بارش کی رم جھم میں ڈسکشن کرتے رہے اور ہمارے خوابوں کا قافلہ ایک جگہ رکا رہا جب بارش رک گئی تو وہ چل دیے کہاں اور ہم اور کہاں۔۔۔
گلزار احمد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں