28

صوفیہ لورین ۔ تحریر گلزار احمد

صوفیہ لورین دنیا کی مشھور ترین ایکٹرسوں میں شمار ہوتی ہیں ۔۔ وہ روم میں پیدا ہوئی اور سولہ سال کی عمر میں اٹلی کی مشھور ایکٹریس بن گئیں ۔ اس کے بعد اس نے امریکی فلموں میں بھی کام کیا۔ مجھے روم جانے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا اس نے ایکٹنگ میں اتنے ایوارڈز حاصل کئیے ہیں کہ شمار کرنا مشکل ھے ۔ میری ذاتی ملاقات تو کبھی نہیں ھوئی مگر جو کچھ سنا وہ بڑا حیران کن تھا۔ مجھے جس چیز نے متاثر کیا وہ اس کی نجی زندگی میں ذھانت ھے۔ اب میں آپ کوصوفیہ کے ایک quote سے آگاہ کرنا چاہتا ھوں جو شاید ہم سب کی کہانی ھے۔ صوفیہ لورین کہتی ہیں ”
جب میرے اندر صحیح بھرپور اعتماد پیدا ہوا تو سٹیج کا وقت ختم ھو چکا تھا۔۔۔ جب مجھے زندگی میں پکا یقین ھوتا کہ میں ہار جاٶوں گی تو میں جیت جاتی تھی۔۔۔۔ جب مجھے دوستوں اور رشتہ داروں کی اشد ضرورت پڑتی تھی وہ مجھے چھوڑ کے جا چکے ھوتے۔۔۔ جب میں اپنے آنسووں پر قابو پانا سیکھ گئی تو دوست اپنا کندھا آگے کر دیتے کہ میں ان کندھوں پر آنسو بہا لوں۔۔۔۔ جب میں نے لوگوں سے محبت چھوڑ دی اور نفرت کرنے کے گر سیکھ لئیے تو کیا دیکھتی ہوں کہ لوگ مجھ سے دلی محبت کرنے لگے ہیں ۔۔۔ جب میں گھنٹوں بیٹھی سورج کے نکلنے اور دھوپ کو دیکھنے کا انتظار کرتی تو سورج نظر نہ آتا اور جب میں سو جاتی تو سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگتا۔۔۔ وہ کہتی ہیں زندگی کا بس اتنا فسانہ اور حقیقت ھے آپ زندگی میں جتنی مرضی منصوبہ بندی کرتے پھریں آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ زندگی خود آپ کے لئے کیا منصوبے بنا رہی ھے؟ آپ کی شاندار کامیابی آپ کو پوری دنیا سے متعارف کرا دیتی ھے مگر آپ کو خود دنیا کا اس وقت پتہ چلتا ھے جب آپ ناکامی سے دوچار ہو جائیں۔۔۔صوفیہ لورین کا کہنا ھے آپ زندگی میں ہمیشہ خوش رھنے کی کوشش کریں۔۔۔ عام طور پر جب آپ امید کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں اب کچھ بھی نہیں ھو سکتا تو خدا مسکرا کر کہتا ھے او میرے پیارے انسان ذرہ سنبھل کر ۔۔۔ذرہ آرام سے سوچو ۔۔۔ یہ ایک موڑ ھے منزل ابھی دور ھے۔۔۔
Often when we lose hope and think this is the end ..God smiles from above and says, Relax sweatheart it is just a bend , not the end”

آج جب میں پاکستان کی حالت دیکھتا ھوں تو مجھے صوفیہ لورین کے الفاظ یاد آ جاتے ہم نے پاکستان کو کمزور کرنے اور لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور قوم کو مایوسیوں اور تاریکیوں کے سمندر میں ڈبو دیا مگر اللہ کی ذات نے پھر بھی ملک کو سنبھالا ھوا ھے ۔ اور ایک سے ایک نعمت عطا کی ہوئی ھے۔ بلوچستان میں ہمارے پاس سونے کے ذخائیر ہیں مگر ہم اتنی صلاحیت پیدا نہیں کر سکے کہ ان کو نکال کے استعمال کر سکیں۔۔اگر ہم نے ٹھیکہ دیا تو یہ نہیں جانتے کہ ٹھیکیدار کتنا لے جا رہا ھے اور ہمارے ملک کو کیا ملے گا ؟ ہمارے پاس انگریز دنیا کا بہترین نہری نظام چھوڑ کر گئیے تھے آج ہمارے پاس پینے کا پانی تک ختم ھو گیا ھے۔ اللہ نے ہمیں دنیا کے بہترین پہاڑ عنایت کئیے گلیشیر دئیے تاکہ ہم ڈیم اور جھیلیں بنائیں ۔۔سستی اور پولوشن فری بجلی پیدا کریں ۔۔ہم نے اس نعمت سے منہ موڑا اور پٹرول سے چلنے والے سفید ہاتھی بجلی گھر ان شرائط پر لا کھڑے کئیے کہ ملک بیچ کر قرضے اتاریں نہ اتریں۔۔۔ہم نے سب کچھ ھوتے ہوۓ وہ وہ شرائط مانیں کہ آے روز غیر ملکی کمپنیاں بینالاقوامی عدالتوں کے ذریعے ہم پر اربوں ڈالر کے جرمانے لگاتی رہتی ہیں ۔ہم گذشتہ قرضوں کی قسطیں اتارنے کے لئیے پوری دنیا سے قرضے مانگتے پھرتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ روزانہ کمپنیوں کے جرمانوں کی خبریں آ جاتی ہیں۔۔۔ ہمارے پاس دیر اور چترال میں قیمتی پتھروں کی کانیں موجود ہیں لیکن آج تک ہم کانوں سے پتھر نکالنے کی ٹکنالوجی بنا سکے نہ کٹنگ اور پالشنگ کا کام سیکھ سکے۔ہمارے پاس دیر کے پہاڑوں میں منرل واٹر کے چشمے ہیں لیکن ہم غیرملکی کمپنیوں کا آلودہ پانی پیتے ہیں۔ ہمیں انگریز دنیا کا بہترین ریلوے سسٹم دے گئے اور ریلوے کی پاکستان میں اتنی قیمتی اراضی تھی کہ اس کے کراۓ کی آمدنی سے قومی بجٹ چلتا ۔۔۔مگر ہم نے پٹڑیاں اکھاڑ کر سٹیل ملیں چلائیں۔۔۔۔ ریلوے کی اراضی اونے پونے بیچ کر قبضہ گروپوں کا بزنس شروع کرایا اور ساری رقمیں جیب میں ڈال لیں اور ریلوے کو خسارے کے سمندر میں ڈبو دیا۔ ہماری پی آئی اے دنیا کی بہترین ائیر لائین تھی اور ایشیا میں کئی ائیر لائینوں کی ماسٹر ٹرینر تھی۔۔۔اس کی سکھائی ہوئی ائیر لائنیں منافع کما رہی ہیں اور یہ اربوں ڈالر خسارے میں ھے۔اس کی جگہ پرائیویٹ ائیر لائنوں کو میدان صاف کر کے دیا گیا۔پاکستان میں تو حج اور عمرہ کے مسافر ہی کوئی ائیر لائین اٹھاتی رھے تو اربوں منافع کماۓ مگر ہم نے ملک کو تباہ کرنے اور قوم کو ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرنے کا تہیہ کیا ھوا ھے۔۔۔ ہم ہر ادارے کے دشمن نکلے جو ہمارے ہاتھ لگا وہ سونے سے مٹی بن گیا۔۔۔اب اس تمام تباہی کا ذمہ دار کون ھے؟کم از کم 95%غریب طبقہ تو نہیں کیونکہ وہ خود مظلوم و بے بس ھے۔۔ظلم تو ان لوگوں نے کیا جن کو اقتدار ملا جنہوں نے جائیدادیں اور ملیں بنائیں ۔۔پھر بھی اللہ کی رحمت سے ملک بچا ہوا ھے۔۔ اور اللہ تعالے فرماتا ۔۔۔میرے بندو میری رحمت سے مایوس نہ ہونا۔۔۔۔
اور دیکھا جاۓ تو غریبوں کے پاس اللہ کے سوا ھے ہی کیا؟؟؟یاد رکھو اللہ ہی ہمارا وکیل ۔مددگار اور کاساز ھے۔۔۔اور شاید
it is just a bend, not the end.

گلزار احمد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں