9

تبدیلی کی لہر بیروزگاری کی لہر بن گئی، 200 فیکٹری مالکان کا کل سے کام بند کرنے کا اعلان

کراچی (نمائندہ خصوصی) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے یکم جولائی سے 200 پروسیسنگ ملز بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان انٹرنیشنل گاہکوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے باعث آرڈرز کینسل کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔اپٹما نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ کے روز 200 مل مالکان کی کراچی میں میٹنگ ہوئی جس میں ممبران نے شکایت کی کہ انٹرنیشنل خریداروں نے اپنے آرڈرز کیلئے نئی قیمتیں ادا کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے مل مالکان نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے مالی سال کے آغاز کے پہلے روز سے ملز بند کردی جائیں گی۔ اپٹما سندھ ، بلوچستان ریجن کے چیئرمین زاہد مظہر کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں 31 فیصد اضافہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے کفن میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی مینوفیکچرنگ پر آنے والی لاگت کے باعث پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو علاقے میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں ، خام مال کی فراہمی میں مشکلات، شرح سود میں اضافے اور سیلز ٹیکس کے ریفنڈ میں مشکلات کے باعث پہلے ہی 140 ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں جس کے باعث 10 لاکھ سے زائد لوگ بیروزگار ہوئے ہیں۔ زاہد مظہر کے مطابق 75 سے 80 مزید ٹیکسٹائل ملز بند ہونے جارہی ہیں جس کے باعث مزید 5 لاکھ لوگ بیروزگار ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں 3 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو گیس فراہم کی جارہی ہے جو پاکستان سے آدھی کم ہے۔ پاکستان میں بند ہونے والی 140 ٹیکسٹائل ملز کے باعث پاکستان کی برآمدات میں 4 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں