6

بارش کی دعا!

حضرت حسن بصری ؒ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ حضرت! بارش نہیں ہے اس کے بارے میں کوئی دعا بتائے؟ حضرت نے فرمایا: “استغفار کیجئے”۔

ایک اور شخص آکر حضرت کے خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نرینہ اولاد کے بارے میں کوئی دعا عرض کر دے؟ حسن بصری ؒ نے فرمایا:” استغفار کیجئے”۔

اسی طرح ایک اور آدمی آیا اور کہا کہ غریب ہو، اگر کوئی وظیفہ ہو تو عنایت فرما دے؟ حضرت حسن بصری ؒ نے پھر وہی جواب دیا کہ استغفار کیا کرے۔

اسی پر حاضرین مجلس نے تعجّب کیا کہ ہر کسی کو ایک ہی جواب اور ایک ہی دعا کا حکم دیا جاتا ہے! یہ کیا وجہ ہے؟

اس پر حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ میں اپنے طرف سے نہیں بتاتا بلکہ قرآن میں موجود ہے، سورۃ نوح میں ہے: میں نے کہا کہ اپنے رب سے بخش طلب کرو، بےشک وہ بخش نے والا ہے، برسا دیگا تم پر تیز بارش، اور امداد کرےگا تمہارا مال اور بیٹوں کے ساتھ۔

اسی وجہ سے میں نے استغفار کا حکم دیا کہ ان تمام مسائل کا حل ہی استغفار ہے۔ آج اگر ہم دیکھیں تو پورا خیبرپختونخواہ اور اکثر علاقوں میں بارش کی اشد ضرورت ہے، پانی کی قلت ہے، انسان اور جانور سب اس مشکل کا سامنا کر رہےہیں۔

آئیے! سب اللہ تعالی سے استغفار کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالی ہم سب پر رحمت کی بارش برسا دے۔ (استغفراللہ ربی من کل ذنب)
تحریر: عبدالوحید شانگلوی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں