21

عنوان: چمڑے کا ٹکڑا یعنی زبان تحریر: نعیم اختر ربانی

خدا تعالی کی بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جن کا ہمیں ادراک نہیں اور چنداں کا ادراک بھی ایسا ہے کہ ان کی اہمیت اور قدر و منزلت سے بہرہ ور نہیں.ان بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت ” زبان” ہے جس کے ساتھ مافی الضمیر کو لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے.
حجم میں بہت چھوٹی مگر کارگزاری میں نہایت عظیم ہے. فتنہ و فساد کی جہنم ہو یا امن و سکون کا بستان, ہر ایک کی بنیاد میں اس کا گارہ ضرور لگتا ہے. اس کے ساتھ دلوں کو الفت کی طرف مائل کیا جاتا ہے اور اسی کے زریعے انسان کو جنگ کے لیے قائل کیا جاتا ہے. کج روی اور راہِ راست کی تبدیلی میں نہایت زود اثر ہے. حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول مبارک ہے ” تلوار کے زخم تو بھر جاتے ہیں مگر زبان کے زخم نہیں بھرتے” قصہء انسانی میں ایسے انسان جابجا ملیں گے جن کے کان زبان سے صادر ہونے والے زہر آلود جملوں سے خون آلود ہوں گے, سینے چھلنی ہوں گے اور کلیجےکئ چھیدوں سے مزین ہوں گے. اسی وجہ سے انتقام کی نہ بجھنے والی آگ بھڑکتی ہے اور کئ نسلیں اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے سفرِ سوء جاری رکھتی ہے.
اس فحش ضرر سے بچنے کے لیے ہمیں اس کے اسباب اور مبادیات کو ختم کرنا ہوگا تاکہ بنیاد ختم ہوتے ہی ضرر کی بلند و بالا عمارت زمین بوس ہو جائے. ” حسد” ان جمیع اسباب میں سے ایک ہے جو اس جلتی ہوئ آگ میں تیل کا کام کرتے ہیں. قائل , مخاطب کی کسی صفت یا عمل سے یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بارگاہِ ایزدی سے اس انعام کے حصول سے مستفید نہیں ہو سکا اور جسے نوازا گیا ہے خدا تعالی اس سے یہ نعمت واپس لے لیں اور مجھے اس سے استفادہ کا موقع فراہم کریں. پھر وہ ایک انجانی قوت کے زیرِ سایہ اس جہنم کے راستے پر چل پڑتا ہے جہاں خیر کا کوئ امکان نہیں . یہ ہی وجہ ہے کہ جب مخاطب انتقام کی غرض سے ان تمام الفاظ کو گوشہء حفظ میں محفوظ کر لیتا ہے تو انجام کار تباہ کن صورت میں چنداں ایام کے بعد دنیا کی نگاہ کے سامنے موجود ہوتا ہے.
فرمانِ نبوی ہے ” تم مجھے دو چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں وہ دو چیزیں ” شرمگاہ اور زبان ” ہیں. زبان کی ضمانت سے مراد یہ ہے کہ جب بھی اس کو بروئے کار لایا جائے تو یہ احتیاط ضرور برتنی چاہیے کہ میری گفتگو سے کسی صاحب کی دل آزاری ہو اور نہ کسی فرد کی حوصلہ شکنی ہو. اس قدر اہمیت کی حامل زبان کو ہم بغیر سوچے سمجھے تھریشر کی طرح استعمال کرتے ہیں کہ جو گھاس , گندم, مٹی وغیرہ سب کو اپنا لقمہ بناتی ہے.
“پہلے سوچو پھر بولو” یہ قول ایک ایسے ضابطہ کو اپنی گود میں پناہ دے رہا ہے جس کے اختیار کرنے سے معاشرے میں پرورش پاتی بہت ساری برائیاں اپنی اصلیت کھودیں اور ان کی جگہ وہ الفتیں لے لیں جن کی چاشنی سے رشتوں میں ایسی مٹھاس رس جائے کہ طویل زمانہ زہریلی باتوں سے قوت سماع مامون رہے. ان عقلاء پر تعجب ہوتا ہے جو بڑے فخر سے بھری محفل میں نہایت زوروشور سے یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ “ہمارے منہ میں جو آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں کبھی کسی سے ڈرے نہیں”. اس قول کے قائلین سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اپنی برائی کو اچھائی کا لیبل لگا کر برائی کی تشہیر کرنے سے برائی اچھائ میں تبدیل نہیں ہو جاتی. بسا اوقات مخاطب اپنی شرافت کی وجہ سے کچھ نہیں بولتا تاکہ لڑائی کی نوبت نہ آ جائے اور کہیں کوئی بڑا آدمی اپنے بڑے پن کی وجہ سے قریباً مجنون کے قول کو اہمیت نہیں دیتا تو یہ قائلین اسے اپنی بہادری قرار دے کر علی الاعلان تشہیر کرتے ہیں.
درست بات یہ ہے کہ جب انسان اپنی زبان کو گویائ کے لیے استعمال کرے اور منہ مبارک فرمان صادر کرنے کے لیے کھولے تو کوشش یہ ہو کہ ہمیشہ اچھی بات اس سے خارج ہو وگرنہ لغویات بکنے سے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے. فرمان نبوی ہے ” جو خاموش رہا اس نے نجات پائی” مطلب یہ ہے کہ بُری اور لغو بات کہنے سے خاموش رہا تو وہ نجات پا گیا. مشاہدہ گواہی دیتا ہے کہ جو زیادہ بولتا ہے اس کی قدر معاشرے میں ذرا برابر نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی کسی بات پر اعتماد کیا جاتا ہے. اپنی قدرو اہمیت بڑھانے کے لیے اپنی زبان کو قابو میں کر کے بقدرِ ضرورت استعمال کریں اور بھلائی کے کلمات سے مبارک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں