22

حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ 516 ارب کے ٹیکس لگائے گئے ہیں لیکن دراصل حقیقت کیا ہے ؟ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں بھانڈا پھوڑ دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیاہے کہ پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ 516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں جبکہ حقیقت میں 733 ارب 50 کروڑ روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں ، پاکستان کوستمبرتک 1 ہزار ارب روپے کے ٹیکسزجمع کرنے ہونگے، آئندہ ماہ بجلی کے ریٹس ڈھائی روپے فی یونٹ بڑھانا ہونگے اور اپنی معیشت کی بہتری کیلئے 25 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے۔رپورٹ کے مطابق مئی سے کرنسی کی شرح بتادلہ مارکیٹ طے کر رہی ہے لیکن اسٹیٹ بینک اسے ماننے کو تیار نہیں ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر اکتوبر 2019 تک عمل کرنا ہو گا ، 2024 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2 فیصد سے کم ہوجائے گا ،2024 میں قرضوں کی شرح بلحاظ جی ڈی پی 67 فیصد تک اور 2020 میں قرضوں کی شرح بلحاظ جی ڈی پی 80.5 فیصد تک پہنچ جائیگی ،پاکستان نے ٹیکسوں کی شرح میں جی ڈی پی کا 4 سے 5 فیصد بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف نے رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق آئی ایم ایف کا پیکج مکمل ہونے تک پاکستان میں کوئی ایمنسٹی سکیم نہیں لائی جا سکے گی جبکہ سگریٹ ، چینی اور سمینٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ پراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب لانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور ٹیکس مراعات اور چھوٹ ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر او زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے،پاکستان نے درآمدی گیس اور لگژری اشیاءپر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا قانون دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا ،بجلی کی قیمت کا نیا ٹیرف اگست 2019 میں جاری کیا جائے گا،نیپرا 2020 کے بجلی ٹیرف کا اعلان ستمبر 2019 میں طے کرے گا،نیپرا کی خود مختاری کا بل دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا،پاکستان گیس سیکٹر کے واجبات کی وصولی یقینی بنائے گااور گیس واجبات کی وصولی کا پلان ستمبر 2019 میں پیش کیا جائے گا ۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معیشت پر جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اوگرا کی خود مختاری کا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ،رواں سال منہگائی کی شرح 13 فیصد تک جائے گی ۔ پاکستان نے بجلی کی پوری پیداواری قیمت صارفین سے وصول کرنیکا فیصلہ کیا ہے،بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے سے گردشی قرضہ ختم ہوگا ۔اگلے سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہے گی اور رواں سال پاکستان کا بجٹ خسارہ 7.3 فیصد رہے گا ، جبکہ اگلے سال پاکستان کا بجٹ خسارہ 5.4 فیصد رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں