13

پاکستان کرکٹ کے مسئلے کا حل مکی آرتھر جیسا ہائی پروفائل کوچ نہیں،بار بار ورلڈ کپ کی پلاننگ کا رونا اور تبدیلی کی باتیں کرنا سمجھ سے بالاتر ہیں:بازید خان

مانچسٹر (این این آئی)مشہور مبصر، پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور ماضی کے عظیم کپتان ماجد خان کے بیٹے بازید خان نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے مسئلے کا حل مکی آرتھر جیسا ہائی پروفائل کوچ نہیں ہے۔ایک انٹرویو میں بازید خان نے کہا کہ لو پروفائل کوچ ہی پاکستان کرکٹ کی ضرورت ہے، پشاور زلمی کے عبدالرحمن یا ان کی طرح کے کوچز لائے جائیں۔بازید خان نے کہا کہ لو پروفائل کوچ لایا جائے جو پی سی بی اور میڈیا کو جوابدہ ہو اور جسے نوکری جانے کی فکر ہو، جس کا پیٹ بھرا ہوا ہے وہ زیادہ کھائے گا تو بدہضمی ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ لو پروفائل کوچز جوابدہ ہوں گے، نوکریاں جانے سے انہیں فرق پڑے گا جب کہ بڑے کوچز کو فوری دوسری نوکری مل جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کرکٹ کے مسائل کا حل لو پروفائل کوچ ہیں کیونکہ غیر معروف کوچ میڈیا کو بھی جوابدہ ہو گا اور بورڈ بھی ایسے شخص کو احتساب کے لیے سامنے لائے گا۔بازید خان نے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد اب مکی آرتھر کو مزید چانس دینا درست نہیں ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مکی آرتھر اگلے سال میں ٹیم کو کھڑا کر دے گا تو یہ درست نہیں ہے، آرتھر کے دور میں ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم مشکلات سے دوچار رہی۔سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ اگلے چار سال کی پلاننگ ورلڈ کپ 2023 کو سامنے رکھ کر کی جائے، یہ دیکھنا چاہیے کہ نیا کوچ لانے سے کیا وڑن تبدیل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حسن علی، شاداب خان اور فخر زمان نے پاکستان کو ا?ئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جتوائی لیکن گزشتہ دو سال سے ان تینوں کی کارکردگی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ورلڈ کپ میں چیمپئنز ٹرافی سے پہلے کی پوزیشن میں دکھائی دیئے، ورلڈ کپ کے بعد ایسی تبدیلی لائے جائے جو ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہو، اب نئی تبدیلی ناگزیر ہے۔انہوں نے ورلڈ کپ میں پاکستان کی حکمت عملی کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 4 سال سے ورلڈ کپ کی پلاننگ کا راگ الاپتے رہے، ہمیں ٹیم کی کارکردگی اس وقت نظر آئی جب ٹیم ابتدائی تین میچ ہار گئی۔سابق کرکٹر نے کہا کہ بار بار ورلڈ کپ کی پلاننگ کا رونا اور تبدیلی کی باتیں کرنا سمجھ سے بالاتر ہیں، اس وقت ہمارا سسٹم ناقابل یقین ہے لیکن مجھے نئے سسٹم پر بھی کچھ تحفظات ہیں، کمزور بنیادوں پر کھڑی فرسٹ کلاس کرکٹ کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے، ڈپارٹمنٹس نے کھلاڑیوں کو مالی آسائش فراہم کی لیکن یہ نظام 1947 سے کمزور تھا۔بازید خان نے کہا کہ ہم ہر ورلڈ کپ کے بعد سوچتے ہیں کہ تبدیلی آئے گی لیکن بظاہر اس طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آتی، ہم نے چار سال ورلڈ کپ کی تیاری کی اور ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا، جنوبی افریقا اور انگلینڈ سے ون ڈے سیریز ہار گئے۔ٹیم کی حکمت عملی کا حال یہ ہے کہ ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز، بھارت اور آسٹریلیا سے ہار کر ہم نے اپنا وننگ کمبی نیشن بنایا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کا ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ بہت مضبوط ہے، یہ درست ہے کہ پاکستان کرکٹ کے موجودہ ڈھانچے سے بڑے بڑے کھلاڑی آئے لیکن اب اس ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے، فرسٹ کلاس کرکٹ میں پیسہ لگانے کی ضرورت ہے۔بازید خان نے کہا کہ اس وقت جو مجوزہ ڈھانچہ ہے اس میں لگ ایسا رہا ہے کہ کسی نے ریسرچ نہیں کی، مجھے نئے نظام پر کچھ تحفظات ہیں، پاکستان کی آبادی کے حساب سے چھ ٹیمیں کم ہیں، آسٹریلیا کے لیے چھ ٹیمیں ٹھیک ہیں۔ہمیں دنیا کے دیگر ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں کے ہم پلہ آنا ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں