9

ہندوستان کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرے۔سمیرا قریشی

یورپ(نمائندہ اکرام الدین)چیئر پر سن کرائسس منیجمنٹ آرگنائزیشن محترمہ سمیرا قریشی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہندوستان اور مودی سرکار کشمیری عوام کا قتل عام اور ان پر ظلم و ستم بند کرے ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں جاری دہشت گردی اور بے گناہ قتل عام کی پرزور مذمت کرتے ہیں چیئر پرسن کرائسس منیجمنٹ آرگنائزیشن محترمہ سمیرا قریشی ایڈوکیٹ نے پاور پلس نیوزکے نمائندے کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے ایک اخباری بیان میں کہا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر میں ہونیوالے ہندوستان کی طرف سے عوام پر ظلم و ستم اور قتل عام کا نوٹس لے انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مسئلہ کشمیر کے حل میں اہم کردار ادا کرے تا کہ کشمیر میں جاری دہشت گردی ختم ہو سکے محترمہ سمیرا قریشی ایڈوکیٹ نے کہا کہ افواج پاکستان اور پاکستان کے 22 کروڑ عوام کشمیر کے مظلوم اور بے بس عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہے اور رہینگے کشمیر اب ہندوستان کی غلامی سے آزاد ہوگا اور بہت جلد کشمیر ایک آزاد اور خودمختار ریاست بن جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ افسوس ناک ہے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ قوانین کے خلاف ورزی ہے۔کیا آرٹیکل تین سو ستر صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے؟ بالکل ہو سکتا ہے مگر اس کا طریقہ بھی خود اسی آرٹیکل میں موجود ہے مرکزی حکومت کسی صورت یہ آرٹیکل کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتی مگر کشمیر کی آئین ساز اسمبلی تو انیس سو ستاون میں ختم ہو گئی اس کے بعد ریاست میں جو صوبائی اسمبلیاں آج تک وجود میں ائیں ان کی حیثیت قانون ساز اسمبلی کی تو ہے مگر آئین ساز اسمبلی کی نہیں چنانچہ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے اس بابت پیٹیشن کے فیصلے میں لکھا کہ آئین ساز اسمبلی کا وجود ختم ہونے کے بعد آرٹیکل تین سو ستر میں تبدیلی یا تنسیخ کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے حتی کہ کشمیر کی کوئی نئی مجلس آئین ساز وجود میں آئے جو موجودہ آئین کی جگہ نیا آئین بنانے کی مجاز ہو اس بارے میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار کیے بغیر گزشتہ روز جس طرح آرٹیکل تین سو ستر کی تنسیخ اور کشمیر کی جغرافیائی حیثیت میں رد و بدل کا اعلان کیا گیا قانون کی نظر میں اس کی حیثیت ردی برابر بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں