92

عشرہ ذوالحجہ اور اعمالِ صالحہ۔ تحریر: آبیناز جان علی موریشس

رمضان کے متبرک مہینے کے بعد انسانی ذہن دوبارہ دنیا کے کاروبار میں اس قدر منہمک ہوجاتا ہے کہ دھیرے دھیرے خدا کی یاد کم ہوجاتی ہے۔ نمازوں میں وہ پابندی باقی نہیں رہتی۔ عبادتوں میں زوال محسوس ہوتا ہے۔ ربِ کریم جو انسانی نفسیات اور انسان کی کمزوریوں سے بخوبی واقف رہتاہے، اس نے ہمیں دوبارہ اپنے قریب آنے کا ایک اور موقع فراہم کرکے اپنی سخاوت و فیاضی مرتسم کی ہے۔
ذوالحجہ کے یہ دس دن اسلامی سال کے بہترین دنوں میں شامل ہیں۔ ان دنوں میں اعمالِ صالحہ سے اللہ رب العزت سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ یہ ایام فرائض کو مزید مستحکم کرنے کاسنہرا وقت ہے۔ صدقہ دے کر گناہوں کی گرفت سے نجات پانے کا وقت ہے۔ یہ حج کا مہینہ ہے جہاں لکھوں کی تعداد میں حجاج کو اللہ پاک کا مہمان بننے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ جو حج ادا کرنے سے قاصر ہیں ان کے لئے روزے کی معرفت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کی مبارک ساعت ہے۔
ان دس دنوں میں گناہوں سے دور رہنے کی پوری جدوجہد کرنی ہے کیونکہ گناہ نہ صرف صراط المستقیم سے مومن کو دور کرتا ہے بلکہ نیک اعمال کو بھی اکارت کردینے کی استطاعت رکھتا ہے۔ان مبارک دنوں میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے۔ نورِ مجسم ؐ کے زمانے میں صحابی عبادتوں میں اس قدر مصروف رہتے کہ ان دنوں میں ان سے ملنایا رابطہ قائم کرنا مشکل پڑجاتا۔
اللہ تعلی نے ان دس دنوں میں دینِ اسلام کی تکمیل کی ہے۔ یہ حقیقت ان دس دنوں کی عظمت کا بین ثبوت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان کے مہینے میں خدائے دو جہاں کی عبادت لازمی ہے۔ لیکن سچے پرہیزگار کی پہچان اسی بات سے ہوتی ہے کہ وہ رمضان شریف کے مہینے کے باہر بھی صبح و شام اپنے آقا کے دربار میں حاضری دے۔ وہ اپنی نمازوں کا پابند رہتا ہے اور ان کا قرآنی فرمان کے مطابق تحفظ بھی کرتا ہے۔ برائی سے دور رہتا ہے اور اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے ذکرِ لا الٰہ سے اپنے لبوں کو تر رکھتا ہے۔
صبح کے وقت جب دنیا سوتی ہے، وہ نیند کی خماری پر فتح پاکراپنے خدا کو پکارتا ہے۔ جب وہ اپنے رب کی پاکی بیان کرتا ہے تو فرشتے اس کے ایمان کے شاہد ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت انسان زیادہ صحتمند رہتا ہے اور اس کا ذہن زیادہ تیز رہتا ہے جس کے باعث وہ بہترین کارکردگی انجام دے پاتا ہے اور دنیا پر سبقت لے جانے کی تربیت اسے صبح میں ہی ملتی ہے۔
امام بخاریؒ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اچھے کام ان دنوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ صحابہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ’اے اللہ کے رسولؐ! کیا راہِ خدا میں جہاد بھی ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے کاموں سے کم درجے کا ہے؟‘ ارشادِ رسالتؐ نے جواب دیا! ’جی ہاں راہِ خدا میں جہاد بھی ان کا ہمسر نہیں۔‘
ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں سب سے زیادہ افضل دن عرفہ کا ہے جو حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔ عرفہ کا روزہ مسنوں ہے۔ اللہ سے رحمت اور مغفرت طلب کر نے اور سزا اور عذاب سے خوف کا اظہار کرنے کا بہترین دن ہے۔ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے دو برس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یعنی گذشتہ برس اور آنے والا سال کے گناہ رد کر دئے جاتے ہیں۔ روزے کا اجر خدا طے کرتا ہے کیونکہ روزہ اس کے لئے رکھا جاتا ہے۔
تکبیر اور ذکر اللہ کو بہت عزیز ہے۔ تہلیل، تکبیر اور تسبیح کا اہتمام کثرت سے کیا جائے تاکہ رحمت اور معافی کے ان دنوں سے ہم بھی مالا مال ہوسکیں۔ وقت کا تعین اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ دنیا ہم کو پرہیزگار مانے یا نہیں عابد فقط اپنے خدا پر اکتفا کرتا ہے جس سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔
عید کے دن قربانی کا گوشت غریبوں میں تقسیم کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ اس طرح غریبوں کو راحت ملتی ہے اور ان کی پریشانیاں کم ہوتی ہیں۔
خدا ہم سب کو ان دس دنوں سے فیض اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں عید کی خوشیاں نصیب کرے۔ دعا ہے کہ تمام حجاج بخیر و عافیت اپنے اہل وعیال اور وطن سلامتی سے واپس جاپائیں اور ان کو حج مبرور نصیب ہو۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں