6

تحریر: ابن گل

1999 جب نواز شریف کا تختہ الٹا گیا اسے ملک بدر کیا گیا. نواز شریف نے تب سعودی عرب,امریکہ ,اسرائیل اور بھارت سے پاکستان کی سیاست میں دوبارہ واپسی کی صورت میں فوج کے پاکستانی سیاست اور سلامتی کے امور میں کردار کو محدود کرنے کا وعدہ کیا. امریکہ ,اسرائیل ,بھارت اور سعودی عرب کی کوششوں سے نواز شریف دوبارہ ملکی سیاست میں نہ صرف داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا بلکہ اقتدار تک بھی پہنچ گیا. بس تب سے نواز شریف نے فوج کو کہیں نہ کہیں انگیج رکھنے کنزرو کرنے کے لئے را,موساد ,سی.آئی.اے اور کئی دیگر ایجنسیوں کے لئے پاکستان کے دروازے کھول دیئے . سانحہ ماڈل ٹاؤن جہاں عالمی گماشتوں امریکہ,اسرائیل ,بھارت اوراسرائیل کے لئے نواز شریف کی حکومت بچانے کے لئے ضروری ہو گیا تھا وہیں مقامی بدمعاشوں کے لئے نواز شریف سے جان چھوڑوانے کے لئے ضروری ہو گیا تھا. سانحہ ماڈل ٹاؤن کے پیچھے جہاں عالمی اسٹیبلشمنٹ ہے وہیں پاکستان کی ایجنسیاں بھی شامل ہیں. عالمی اسٹیبلشمنٹ یا عالمی بدمعاش نواز شریف کے ذریعے افواج پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے تھے جب کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سب کچھ جان لینے کے بعد نواز شریف کا کانٹا نکالنا چاہتی تھی . پس مقامی ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو ڈاکٹر طاہرالقادری کی انقلابی تحریک سے خوفزدہ کیا اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو سبق سکھانے کا مشورہ دیا. جس پر نواز شریف نے گارنٹی مانگی جو اسے دی گئی، جس کے بعد ہی نواز شریف نے سانحہ ماڈل ٹاؤن بپا کیا,. (جسکا واضح ثبوت سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عدالتی سست روی اور لیت العال ھے بلکہ الٹا تحریک منھاج القرآن کے کارکنان کے خلاف سیاسی مقدمات پر غیر منصفانہ فیصلے دیکر تحریک کو کچلنے کی ظالمانہ کوشش شامل ھے) سانحہ ماڈل ٹاؤن کروا کر مقامی اسٹیبلشمنٹ کا مقصد فقط نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ ہی نہ تھا بلکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے انقلاب کو ناکام بنانا بھی تھا کہ ایک طرف ڈاکٹر طاہرالقادری کی نظام بدلو تحریک چل رہی تھی تو دوسری جانب تبدیلی کو لانچ کر دیا گیا. جس سے یہ بات پائے ثبوت کو پہنچتی ہے. کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن گو کہ بظاہر نواز شریف اینڈ کمپنی کا کیا دھرا ہے مگر اس کی منصوبہ بندی پیچھے بیٹھی قوتوں نے کی جو آج بھی قاتلوں کو بچا رہی ہیں. اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو اور کبھی ان کے کارکنان کے خلاف جعلی مقدمات قائم کر کے تو کبھی خود ڈاکٹر طاہرالقادری کو عدالتوں سے اشتہاری قرار دلوا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پھر مجھے یہ کہنے میں کوئی دقت نہیں کہ اداروں کی اس بدمعاشی کے ٹوٹنے کا دور شروع ہوا چاہتا ہے. یہاں ایک طرف وہ فوج مخالف قوتیں منظم ہو رہی ہیں جنہوں نے امریکہ ,اسرائیل اور بھارت سے ساز باز کر رکھی ہے تو دوسری جانب مظلوم اہل وطن اپنے بنیادی حقوق کی بحالی کے لئے بالآخر بغاوت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہونگے. جس کا اثر لامحالہ اس نظام کی محافظ قوتوں پر پڑے گا اور وہ قوتیں کون سی ہیں شاید اب پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں