4

نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی نہ آندھی کی پرواہ کی نہ دھوپ کی پرواہ کی لاہور سے کال آئی

نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی نہ آندھی کی پرواہ کی نہ دھوپ کی پرواہ کی لاہور سے کال آئی لاہور پہنچا ڈی جی خان کو ضرورت پڑی ڈی جی خان پہنچا نہ چھٹی کی نہ چین کیا نہ سکون کیا نہ آرام کیا رات کے تین تین بجے تک لوگوں کا کام کیا۔
ڈیرہ غازی خان سیوریج جیسے گھمبیر مسائل میں ڈوبنے لگا تو خود میونسپل کارپوریشن پبلک ہیلتھ کے عملے کو ساتھ اٹھا کے سیوریج کے مسائل کو ٹھیک کرنے لگا۔
پچھلی حکومت کی ناقص سیوریج لائنوں کو دیکھا تو وزیراعلی کے پاس جا کر ڈی جی خان کی عوام کے لیے 2 ارب 70 کروڑ سیوریج ٹف ٹائل سٹریٹ لائٹس اور میٹھے پانی کے لیے لے کے آیا ۔
ہسپتال میں صورت حال دیکھی تو 200 بیڈ کارڈیالوجی لے کر آیا 200 بیڈ کا گائنی بلاک لے کر آیا نیو او پی ڈی بلاک لے کر آیا اس کے علاوہ بہت کچھ لکھوں تو شاہد لکھنے والے لفظ ختم ہو جائیں۔
میرے مخالفین نے میری کارکردگی سے تنگ آ کر وہ کام کیا جس کا عوام سوچ بھی نہیں سکتی مگر میں سینہ تان کے ان کا مقابلہ کرتا رہا کیوں کہ مجھے اپنی عوام سے پیار تھا آج میں جو کچھ ہوں اسی عوام کی وجہ سے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں