11

میلہ امیر شاہ،محرم الحرام کا تقدس پامال ذمہ داران کہاں ہیں۔۔۔؟

محرم الحرام کا تقدس پامال، صوفی بزرگ سید امیر شاہ کے عرس کے نام پرجوئے کا دھندا عروج پر، ہر ذی شعور کے لبوں پر مچلتا ہوا سوال جواب چاہتا ہے کہ سیکیورٹی کے ذمہ داران کہاں پر ہیں۔۔۔؟
تحصیل ہیڈ کوارٹر تونسہ سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر موجود قبائلی علاقے کے گاؤں بیروٹ مندوانی میں موجود صوفی بزرگ سید امیر شاہ کے مزار پر پہلے کی طرح
محرم الحرام میں لگنے والا عرس اس بار بھی جرائم پیشہ عناصر کی اماجگاہ بنا ہوا ہے۔جہاں پر منشیات اور جوئے کا دھندا زور شور سے جاری ہے۔جہاں ہمہ وقت سیکیورٹی اداروں کے مسلح اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں۔مگر اپنے فرائض انجام دینے کی بجائے محض کھیل تماشا کا حصہ بنے رہتے ہیں۔سید امیرشاہ کے عرس کے موقع پر اس طرح کی سرگرمیوں کے باعث عقیدت مندوں نے عرس کے موقع پر آنا بہت پہلے کا چھوڑ دیا ہے۔اب یہ عرس صرف جوئے اور منشیات کی منڈی میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔جہاں دور دور سے جواری مال کمانے کے چکر میں جمع ہوتے ہیں۔یہاں ہر سال کروڑوں کا جوا کھیلا جاتا ہے جس میں سینکڑوں افراد اپنی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔مگر سیکیورٹی کے ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
یہاں عوام کو منشیات بلا روک ٹوک مہیا کی جاتی ہے جس کی وجہ بہت سے شوقین حضرات اپنے دوستوں کو ان کا عادی بنا دیتے ہیں۔یوں یہ میلہ ہر سال درجنوں نئے جہاز بنانے کا سبب بنتا ہے اور بہت سے خاندان مستقل اذیت سے دوچار ہوجاتے ہیں۔مگر عوام کو تحفظ دینے کے دعویدار ہمارے سیکیورٹی ادارے لسی پی کر سوتے رہتے ہیں۔
محرم الحرام کے تقدس کی پامالی اور جوئے اور منشیات کے کاروبار کو روکنے کیلئے اقدامات کون کرے گا؟
سیکیورٹی کے ذمہ داران کب جاگیں گے؟
یہ ذمہ داری ہم سب پر بھی عائد ہوتی ہے ، ہم اپنے عوامی نمائندگان کو جگائیں اور انہیں ان جرائم کے خاتمے کیلئے اقدامات کروانے کیلئے پابند بنائیں علاقہ عوام الناس کا اعلاحکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ رپورٹر سلیم اختر پاورپلس نیوزتونسہ شریف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں