10

انتخاب تحریر امداداللہ طیب موم بتیاں، خاموشی اور سول سوسائٹی

موم بتیاں، خاموشی اور سول سوسائٹی

انتخاب تحریر ۔۔۔۔امداداللہ طیب

کالم ٹائٹل پیام امداد

شام کا ملگجا اندھیرا، رات کی سیاہی میں تبدیل ہو رہا تھا،فرحان اپنے کام میں مصروف تھا، اچانک فرحان کے دروازے کی بل بجی۔فرحان نے جا کے دیکھا تو اس کا کزن عمیر دروازے میں کھڑا تھا۔

ارے واہ! تم اچانک کیسے ٹپک پڑے؟فرحان نے عمیر سے ملتے ہوئے دلی خوشی محسوس کی۔

عمیر بھائی آج آپ اچانک کیسے؟فرحان نے بیٹھتے ہی پوچھا؟

بس یار ایک کام سے ادھر آیا ہوا تھا سوچا تم سے بھی ملتا چلوں۔
شام کا کھانا تو کھلا دو گے نا!
عمیر نے شوخیانہ انداز میں کہا!

ہاں ہاں کیوں نہیں!
ارے بھائی اتنی بھی کیا جلدی ہے۔ تھوڑی ریسٹ کریں۔پھر آرام سے اور آزادی سے گپ شپ بھی کریں گے اور کھانا بھی کھائیں گے۔
فرحان نے عمیر کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور کھانے کا انتظام کیا۔
کھانے پر بیٹھے تو گفتگو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
ہاں، اب بتاؤ اتنی رات گئے کس پراجیکٹ پر جناب تشریف لائے ہیں۔
فرحان نے روٹی کا نوالہ توڑتے ہوئے پوچھا۔
عمیر پور جوش انداز میں بتانے لگا:،،آج صبح مارکیٹ میں جو دھماکہ ہوا تھا اور اس میں کئی لوگ خواتین اور بچوں سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔

فرحان نے لقمہ دیا: ،،ہاں ہاں بہت افسوس ناک سانحہ ہوا ہے۔ میرا تو دل دہل کے رہ گیا ہے۔میں نے مرنے والوں اور ان کے غم زدہ لواحقین کے لئے بہت دعائیں کی ہیں۔

سول سوسائٹی اور ایک این جی او کی طرف سے اس سانحے پر اظہار غم کے لئے شہر کے ایک بڑے چوک پر موم بتیاں جلانے کا پروگرام تھا اور ہمیں بھی اس میں انہوں نے بلایا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک نیکی کا کام ہے اس لیے ہم،یونی کے کئی ساتھی اس میں شرکت کے لیے چلے آئے۔۔۔ اور یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ موم بتیاں اندھیرا ہونے پر ہی جلائی جانی تھیں، اس لئے میں اس وقت تمہارے ہاں نظر آ رہا ہوں تھا۔

فرحان کا منہ ایک دفعہ کھلا، پھر بند ہوگیا۔ کئی سوال اس کے ذہن میں کلبلائے، ہونٹوں پر مچلے۔ بالآخر اس نے بڑے تحمل سے پوچھا۔،،
یہ سول سوسائٹی کیا ہے؟
کیا کوئی نئی این جی او ہے؟

عمیر نے اس کی جہالت پر ایک تاسف کی نگاہ ڈالی۔ یہ این جی او نہیں ہے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر مذہب اور نظریہ سے ماورا ہوکر صرف انسانیت کی خاطر اکٹھے ہوتے ہیں۔ اب دیکھو نا، ان میں ہندو، سکھ، عیسائی سارے شامل تھے اور سب نے مل کر آج کے سانحے پر اپنے غم کا اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

تو کیا ہم مسلمانوں میں اظہار تعزیت کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے کہ ہم نے مغرب کی نقل میں موم بتیاں جلا کر اظہار تعزیت اور اظہار ہمدردی کرنا شروع کر دیا؟

مجھے پتا تھا کہ تم ضرور اعتراض جڑو گے۔۔۔ بھائی موم بتی جلانے میں کیا حرج ہے؟ اتنی بھی کیا تنگ نظری یار!

تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ کیا ہمارے دین نے ہمیں اظہار تعزیت اور اظہار ہمدردی کا کوئی طریقہ نہیں دیا؟

تم مجھے ہمیشہ کشممکش میں ڈال دیتے ہو۔
تو سوچو نا !!
اپنی سوچن دانی کو استعمال کرو۔
تم نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک نیکی کا کام ہے۔ تم نیکی کی کیا تعریف کرو گے؟

عمیر طنزیہ انداز میں مسکرایا اور پھر گویا ہوا۔
یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ۔ایک بچہ بھی یہ بات بتا دے گا کہ نیکی اس عمل کو کہتے ہیں جس پر اللہ تعالی اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔

الحمدللہ!
بس اب مجھے صرف یہ بتا دو کیا موم بتی جلانے پر اللہ نے یا اللہ کے رسول نے کسی اجر کا وعدہ کیا ہے؟ عمیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔

پھر نظریں چراتے ہوئے بولا، مگر میں تو نیکی سمجھ کر ہی شریک ہوا تھا۔

نیکی اگر اس عمل کا نام ہے جس پر اللہ راضی ہو تو پھر اللہ تعالی سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس عمل سے اور کس طریقے سے راضی ہوگا۔

ہاں یہ تو عین فطری اور منطقی بات ہے۔پھر کچھ سوچتے ہوئے وہ بولا مگر آج کے ایونٹ میں غیر مسلم برادری بھی تو شامل تھی۔وہ بھلا اسلامی طریقے پر کیوں چلیں گے۔

تو پھر مسلمان کیوں اس غیراسلامی ایونٹ میں شامل ہوگئے؟ انہیں اگر کچھ کرنا ہے تو اسلامی طریقے سے تعزیت کریں؟
غیر اسلامی طریقے کو غیر مسلموں کے لیے ہی چھوڑ دیں۔

دیکھو میں تمہارا بھائی ہوں اور عزیز دوست ہوں اس لیے تمھاری خیرخواہی کر رہا ہوں۔

اظہار تعزیت کے لئے یا اظہار غم کے لیے موم بتی جلانا یہ سب غیر مسلموں کے طریقے ہیں۔ ان کا فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔۔۔
نیکی وہ ہے جسے اللہ نیکی کہے اور طریقہ بھی وہی ہو جو اس نے بتایا ہے۔

فرحان بول رہا تھا اور عمیر کے چہرے سے نیم آمدگی کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔

ماخوذ از خواتین کا اسلام
اس مکالمہ میں کرداروں کے نام بدلے ہیں باقی تحریر مکمل ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں