9

معروف ٹیکنالوجی کمپنی ’مائیکروسافٹ‘ نے امریکی حکومت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی طرف سے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ’ہواوے‘ پر یہ کہہ کر پابندیاں عائد کی گئی ہیں کہ وہ اپنی ڈیوائسز کے ذریعے چینی حکومت کے لیے دیگر ممالک کے لوگوں کی جاسوسی کرتی ہے لیکن معاملہ الٹ ہی نکلا ہے اور معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’مائیکروسافٹ‘ نے امریکی حکومت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے۔ ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق مائیکروسافٹ کے صدر اور چیف لیگل آفیسر بریڈ سمتھ نے اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’ٹولز اینڈ ویپنز‘ (Tools and Weapons)میں تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت نے مائیکروسافٹ سے کہا کہ وہ دیگر ممالک کی جاسوسی کریں اور دوسرے ممالک کے متعلق تمام تر معلومات امریکی حکومت کو دیں

کتاب میں ایک جگہ بریڈ سمتھ امریکی صدر ٹرمپ کے ایک مشیر کا نام ظاہر کیے بغیر لکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے اس مشیر نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ دوسرے ملکوں کی جاسوسی کرو۔بریڈ سمتھ کا کہنا تھا کہ ”میں نے اسی وقت یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ ہمارے کاروبار کے لیے بہت برا ثابت ہوتا۔“بریڈ سمتھ کے انکار پر صدر ٹرمپ کے مشیر نے کہا کہ ”ایک امریکی کمپنی ہونے کے ناتے تم دوسرے ممالک کے لوگوں کی جاسوسی کرنے اور اپنی امریکی حکومت کی مدد کرنے پر راضی کیوں نہیں ہوتے؟“

اس پربریڈ سمتھ نے مشیر کو جواب دیا کہ ”کیا امریکہ میں موجود صدر ٹرمپ کے ہوٹلز اپنے ہاں قیام کرنے والے غیرملکیوں کی جاسوسی کرتے ہیں؟ مشرق وسطیٰ میں بھی ان کے ہوٹل ہیں، کیا وہاں یہ کام کیا جاتا ہے؟ میرے خیال میں اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ ان کے فیملی بزنس کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔“بریڈ سمتھ نے اپنی کتاب میں امریکی حکومت کی طرف سے چینی کمپنی ’ہواوے‘ پر لگائی گئی پابندیوں کی بھی شدید مذمت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں