8

”ان جنات سے ان کی شادی پر ملاقات ہوئی تھی اور پھر اتنے سالوں بعد وہ ہمارے گھر آ گئے۔۔

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) عائشہ مظفر نامی خاتون ’ابو کے جن‘ (Abu’s Jinns)

(https://www.instagram.com/abusjinns/) کےنام سے انسٹاگرام پر ایک اکاﺅنٹ چلاتی ہیں اور اس پر جنات کے متعلق انتہائی حیران کن کہانیاں پوسٹ کرتی رہتی ہیں جو ان کے والد کے شناسا تھے۔ عائشہ مظفر کی بیان کردہ ایسی ہی ایک کہانی ویب سائٹ ’مینگوباز‘ نے پوسٹ کی ہے۔ اس کہانی میں عائشہ مظفر بتاتی ہیں کہ”اس وقت میری عمر 20سال تھی۔ ایک روز ہمارے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی اور میں نے باہر جا کر دیکھا تو ایک میاں بیوی سامنے کھڑے تھے۔ ان دونوں کی شکلیں اتنی آپس میں ملتی تھیں کہ وہ میاں بیوی لگ ہی نہیں رہے تھے تاہم جس طرح مرد نے عورت کا ہاتھ تھام رکھا تھا اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ نکاح میں ہیں۔ ان دنوں امی نے مجھے منع کر رکھا تھا کہ کسی کو گھر کے اندر نہیں آنے دیا۔ ابو بیمار رہتے تھے اور ہمارے ڈرائیور شاہ جی اپنے گاﺅں گئے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود میں نے دروازہ کھول دیا اور اس میاں بیوی سے کہا کہ ”سلام، عدنان صاحب آج ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ۔۔“ ابھی میں نے اتنا ہی کہا کہ اس شخص نے میری بات کاٹ دی اور بولا ”اللہ انہیں صحت دے لیکن ہم ان کی بیوی سے ملنا چاہتے ہیں، میری بیوی کی حالت وہ ہی عدنان صاحب کو بتا پائیں گے۔“

عائشہ مظفر لکھتی ہیں کہ ”اس شخص کی یہ بات سن کر میں پیچھے مڑی اور اپنی والدہ کو آواز دی۔ جب امی نے آ کر دروازے کے باہر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ مجھ پر غصہ ہوئیں اور کہا کہ ”یہ کیا مذاق ہے عائشہ؟“میں حیران تھی کہ وہ لوگ کہاں گئے۔ اسی پریشانی میں میں ابو کے کمرے میں چلی گئی اور امی بھی پیچھے آ گئیں۔ ابو نے پوچھا کہ ”کون تھا باہر؟“ تو امی کہنے لگیں کہ ”اسے دن میں بھی خواب آنے لگے ہیں۔ یہ جو دن رات میک بک پر چپکی رہتی ہے یہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔“ یہ کہہ کر امی کمرے سے چلی گئیں۔ ابھی امی نکلی ہی تھیں کہ ابو بولے”تمہاری امی ڈر جائیں گی، اس لیے کہ وہ تمہارے آنے پر دیکھتیں، میں نے گھر آئے مہمان کو بھیج دیا۔“ ایک منٹ تک مجھے ابو کی بات کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پھر ابو نے اشارے سے مجھے بتایا کہ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار جنات دیکھے ہیں۔ وہ مرد اور عورت جن تھے۔ یہ سن کر میرے پورے بدن میں سنسنی دوڑ گئی اور میں بولی”ابو جان اب ایسے تو نہ ڈرائیں مجھے۔“

عائشہ لکھتی ہیں کہ ”ابو نے میری بات سن کر کہا کہ ”لے، اب پیچھے سے اوہ آہ کی آواز تو نہیں آنی تھی اور نہ ہی ہوا کا جھونکا محسوس ہونا تھا اور نہ ہی کتوں کے بھونکنے کی آواز آنی تھی۔ اچھے جن تھے، عائشہ۔ مسلمان جن۔“پھر ابو نے مجھے پوری کہانی سنائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں