25

کالم علاقائی رپورٹر کو صحافی قرار دے کر صحافت کو گالی دینے والو عقل کرو تحریر جرنلسٹ نصرت عباس

( تحریر جرنلسٹ نصرت عباس نصرت پاور پلس نیوز ساہیوال )

یہ تحریر ان کے لیے جو علاقائی صحافیوں کو کم تعلیم کی باتیں سنانے اور علاقائی رپورٹر کو تنقید کا نشانہ بنانے پر کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔۔۔۔۔

علاقائی رپورٹر کو صحافی قرار دے کر صحافت کو گالی دینے والو عقل کرو,علاقائی رپورٹر کا کام محض اتنا ہے کہ وہ علاقہ میں ہونے والے واقعہ وقوعہ کی رپورٹ اپنے ادارے کو ارسال کردے, یہ رپورٹ شائع ہونے تک کانٹ چھانٹ اور ایڈیٹنگ کیلئے متعدد ہاتھوں سے گزرتی ہے تاکہ غلطی کی گنجائش نہ رہے, ہم آوٹ سٹیشن رپورٹرز (OSR) یا علاقائی رپورٹرز کو صحافت میں اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی پولیس محکمہ میں ایک رضا کار کو اگر آپ ایک رضا کار کیلئے ماسٹر ڈگری تجویز کریں گے تو پھر سٹاف رپورٹر, چیف رپورٹر, انچارج پیج, نیوز ڈیسک انچارج, سب ایڈیٹر, ایڈیٹر, ریذیڈنٹ ایڈیٹر, چیف ایڈیٹر, گروپ ایڈیٹرز سمیت صحافت کے 16 Designations کیلئے مزید 16 ڈگریاں متعارف کروانی پڑیں گی,آپ سے التماس ہے کہ کسی پر تنقید کرنے سے پہلے اس بارے میں ابتدائی معلومات لے لیا کریں.آوٹ اسٹشن رپورٹر کی کوئی تنخواہ نہیں ہوتی وہ اس لالچ میں اخبار یا کسی صحافتی ادارے کو رضاکارانہ طور پر جوائن کرتا ہے تا کہ وہ اپنے علاقہ کے مسائل کو بہتر طریقے سے اجاگر کرسکے,جس کے عوض اسے اپنی جیب سے خرچہ بھی کرنا پڑتا ہے اور ادارے کو اشتہارات بھی دینے پڑتے ہیں, ایسی صورتحال میں کسی ماسٹر ڈگری ہولڈر کو کتے نے کاٹا ہے کہ وہ 16 سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنا مستقبل روشن کرنے کی بجائے اپنے خرچہ پر رپورٹر بن کر ہر ایرے غیرے کی تنقید برداشت کرے؟؟؟ یہ ہم والدین کے نکھٹو ہی ہیں جو گریجویشن کے باوجود پیٹ پالنے کیلئے محنت مزدوری علیحدہ کرتے ہیں اور ظالم اور جرائم پیشہ عناصر سے دشمنی الگ,آخر میں ملتا کیا ہے؟؟؟ حوصلہ افزائی کے بجائے ٹکے ٹکے کی باتیں,ہمیں ان پوسٹوں اور باتوں کی پرواہ بالکل نہیں کیونکہ ہمیں حوصلہ ملتا ہے جب کسی غریب چرواہا کی بکری چوری ہوتی ہے تو وہ ریاست کی بجائے ہمارا دروازہ کھٹکھٹاتا اس امید اور یقین کے ساتھ کہ ہم اس کے مقدمہ کے اندراج سے لے کر برامدگی تک اس کا ساتھ دیں گے, ہمیں دلی سکون حاصل ہوتا ہے جب ہماری خبر پر غریب مریض کا فری علاج ہوتا ہے, جب سرکاری اداروں کے ظلم کاشکار تھکا ہارا ہمارے پاس پہنچتا ہے,صحافی کو بلیک میلر ضرور کہیں لیکن اس سے قبل صرف ایک سوال کا جواب دے دیں..کیا اس ملک میں لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے ڈاکٹر, انجینئر, وکیل, پولیس,علماء,اور بیوروکریٹ اپنا کام ایمانداری سے کررہے ہیں؟؟؟؟جناب ہم اس دور میں بلا معاوضہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں جس دور میں بلامعاوضہ کوئی نماز پڑھانے کو تیار نہیں….نہیں یقین تو کسی مسجد کے امام کی تنخواہ بند کر کے تجربہ کرلیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں