4

صحافت کو محکمے کمزور کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ تحریر سلیم اختر پاورپلس نیوز

صحافت کو محکمے کمزور کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ـ

،تحریر

سلیم اختر پاورپلس نیوزتونسہ شریف

ہمارے معاشرہ میں صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جو ہر اچھائی برائی کو سامنے لاتا ہے اگر محکموں میں کرپشن جیسی لعنت بلکل نہیں ہے تو پھر محکموں میں صحافیوں کے جانے پر پابندی بلکل نہ ہو بلکہ فُل کوریج کرنے کی خود آفر کریں اور جب صحافی کو روکا جاتا ہے کہ آپ یہاں پر کوریج نہ کریں تو مقصد یہاں پر کوئی کرپشن یا کمی کوتاہی ضرور ہوتی ہے جس کو چھپانے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے ـ کیا کبھی یہ بھی دیکھنے کو آیا ہے کہ!
1ـ صدر پاکستان یا وزیر اعظم پاکستان کسی موضوع پر پریس کانفرنس کریں اور صحافیوں کو نہ بلائیں ـ
2ـ کیا کبھی کوئی وزیر وزٹ پر جائیں اور صحافیوں کو نہ بلائیں ـ
میرے کہنے کا مقصد ایک ہے کہ صحافی ملک کے بڑے سے بڑے لیڈر اور تمام محکموں کی کمی کوتاہیاں ظاہر کرتے ہیں اور اچھائیاں بھی بیان کرتے ہیں ـ کسی قسم کا کوئی جرم نہیں کرتے آج کل روزانہ کی بنیاد پر یہ باتیں سامنے آرہی ہے کہ کبھی کسی صحافی کو زخمی کردیا جاتا ہے کبھی کسی صحافی کو محکمے کے اندر کوریج سے روک دیا جاتا ہے کبھی کسی صحافی پر قاتلانہ حملہ کیا یا کرایا جاتا ہے آخر ایسا کیوں ایک تو ادارے صحافی کو تنخواہ نہ دیں اور اپنی من مانی سے چلیں ـ صحافی فری میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر محنت کرے اور ادھر سے اداروں کے آفیسران کی دھمکیاں بھی سنے آخر کیوں؟
حکومت پاکستان سے اپیل ہےاگر ملک سے کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں تو صحافیوں کو محکموں کے اندر کوریج کرنے کا فُل اختیار دیا جائے پھر دیکھیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سب سامنے آجائے گا ـ جن کالی بھیڑوں نے ایماندار آفیسران اور محکموں کو بھی بدنام کر رکھا ہے اور غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں اور سیاست دانوں کے تَلوے چاٹ کر اپنی کرپشن دندنا کر کر رہے ہیں کم از کم اعلٰی اور ایماندار آفیسران کے سامنے تو کُھل کر ہونگے ـ یہ صحافیوں کے لیے حق اور سچ کی قلم چلانے کیلئے آزادی کی استدعا ہے ـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں