14

حلقہء فکروفن کا امریکی شہر ورجینیا میں خصوصی پروگرام

حلقہء فکروفن کا امریکی شہر ورجینیا میں خصوصی پروگرام

(آصف رضا)حلقہء فکروفن سعودی عرب کے زیر اہتمام گذشتہ روز ایک خسوصی پروگرام مناسس (ورجینیا) میں منعقد ہوا – جس کے مہمان خصوصی Response USA کے صدر ڈاکٹر عارف محمود تھے جب کہُ صدارت حلقہء فکرو فن کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کی – پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا جبکہ نعت رسول مقبول صلعم نازش ریاض نے پیش کی – جس میں ورجینیا کے ادب نواز دوست اور علم و ادب کے دلدادہ لوگ شریک ہوئے –
پروگرام کے پہلے حصے میں مقبوضہ کشمیر کی درد ناک صورت حال اور ان کی مشکلات کا ذکر ہوا – وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے اقوام عالم میں کشمیریوں کا بھر پور انداز میں مقدمہ پیش کر نے کو بے حد سراہا گیا لیکن ان کی مشکلات کو عملی پر حل کرانے کے لئے بھی مغربی دنیا اور اور میڈیا میں اپنی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا – ڈاکٹر عارف محمود نے اپنی تنظیم Response USA کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مالی اور راشن تقسیم کرنے کی سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی – ڈاکٹر ریاض چوہدری نے کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم پر ایک نظم پیش کی –

چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں

ادبی نشست کا آغاز کرتے ہوئے صدر محفل ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کہا کہ باشعور قومیں علم وادب کی سرپرستی کرتی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ”ادب” تہذیب کا چہرہ ہوتا ہے اور شاعری چہرے کا حسن ۔ شاعر کے دل سے نکلی بات قاری یا سامع کے دل تک براہ راست پہنچتی ہے، اور دیر تک اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔کسی بھی زندہ قوم کی پہچان اس کی تہذیب، زبان، ادب، فلسفہ اورفنون لطیفہ سے ہوتی ہے، اس لئے باشعور قومیں علم وادب کی سرپرستی کرتی ہیں۔ جو قومیں ماضی سے کٹ جاتی ہیں ان کا جغرافیہ مٹ جاتاہے ۔
حلقہ ء فکروفن ریاض سعودی عرب  بھی اپنی اس قومی ذمہ داری کو دیار غیر میں پوری کر رہا ہے اور گذشتہ سنتیس سال سے ادب کی ترویج اور ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ اس نے  اپنے مشاعروں اور ادبی کارہائے نمایاں کی بدولت سعودی عرب میں ایک خاص مقام حاصل کیا اور اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔ حلقہ ء فکروفن نے سامعین کے ذوق کی قدر کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے پروگراموں کا ادبی معیار قائم رکھا ہے اور تشنگان شعروادب کی سماعتوں کو آسودگی بخشنے کے لیےنامور ادباء اور شعراء کی محفلیں سجائی جاتی رہی ہیں ۔ جو مادر وطن سے آنے والے ادبی شخصیات کے اعزاز میں اورہمارے معروف ادیبوں اور شاعروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد کی جاتی ہیں –

اس کے ساتھ شعروشاعری کی محفل سج گئی – ابھرتے ہوئے شاعر عمر لاسلام نے اپنا کلام پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا –

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
خالی جھولی لئے ویران شجر بچتا ہے
نکتہ چیں ! شوق سے دن رات مرے عیب نکال
کیونکہ جب عیب نکل جائیں ، ہنر بچتا ہے

ڈاکٹر عثمان ملک نے اپنے کالج کے زمانہ میں کہی گئی شاعری کی ایک رباعی پیش کی جس پر حاضرین عش عش کر اٹھے اور خوب داد دی –

پیمانہ ضبط جب آئیگا تو ہم رؤ لینگے
کوئی بھی اپنا ادھر آئیگا تو ہم رؤ لینگے
ابھی تو میری آنکھ پایاب اشق ہے ، صبر ہے
آنکھوں میں ایک سمندر اتر آئیگا تو ہم رؤ لینگے
یہ ٹھوکریں تو مل رہی ہیں اپنے ہی خون کی نسبت
کوئی غیر جب ہمیں گرائے گا تو ہم رؤ لینگے

معروف شاعر اور کمیونٹی لیڈر ڈاکٹر عارف محمود نے اپنا کلام پیش کیا تو حاضرین نے تالیوں کی گونج میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور بےحد تعریف کی
خزاں نصیب چناروں کے جھینپتئے سائے
اداس چمپئ کلئیاں گلاب مرجھائے
اشارہ کوئی نھیں ھے تمہارے ملنے کا
بس اک گمان کہ شاید تو آج آجائے

آخر میں ڈاکٹر ریاض چوہدری نے اپنی تازہ غزل پیش کی جس سے سامعین بہت مسحور ہوئے –

جس کو آتا ہی نہ ہو رشتے نبھانے کا ہنر
چاہ کر بھی وہ مرا دلدار ہو سکتا نہیں
اس کی فطرت سے بہت اچھی طرح واقف ہوں میں
وہ کبھی میرے گلے کا ہار ہو سکتا نہیں
جو سر بازار مجھ پر تہمتیں رکھتا پھرے
وہ کبھی عاجز مرا غم خوار ہو سکتا نہیں

میمان خصوصی ڈاکٹر عرف محمود نے کہا کہ ادب کسی قوم اور کسی زبان کی پوری تہذیب اور مزاج کا اظہار ہوتا ہے اس لیے ادب کے مطالعے کے ذریعے ہم کسی تہذیب کی روح تک پہنچ سکتے ہیں معاشرتی صحت کے کردار کے لیے ادب سے بہت مثبت کام لیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم سب کی زمہ داریوں میں سے ایک اردو ادب کی ترویج وترقی بھی مقدم ہونی چاہیے کیونکہ اپنے ادب اور اپنی زبان کو برقرار رکھنے سے قومیں اپنی شناخت برقرار رکھ سکتی ہیں معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی صحت مند اور باصلاحیت قوم وجود میں آتی ہے –
ڈاکٹر عثمان کی دعا کے بعد پروگرام اختتام پزیر ہوا آخر میں مہمانوں کی تواضع پر تکلف عشائیہ سے کی گئی –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں