4

مذہبی طبقے سے گزارش ہے کہ “آزادی مارچ” کے لئے نکلنے سے پہلے 77ء کی “تحریک نظام مصطفی” کا اچھی طرح مطالعہ کرلیں

(رپورٹ ۔ابوحمزہ ساجد) تحصیل فورٹ عباس ۔مذہبی طبقے سے گزارش ہے کہ “آزادی مارچ” کے لئے نکلنے سے پہلے 77ء کی “تحریک نظام مصطفی” کا اچھی طرح مطالعہ کرلیں۔عظیم حریت راہنما چی گویرا کہ بقول جو قوم اپنی تاریخ سے دلچسپی نہ رکھے تو ان کے حافظے کمزور اور مزاج جذباتی ھوتے ھیں۔ اور وہ اپنے لیڈر کے چناو میں ہمیشہ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مفتی عبدالقدوس رہنما انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان نے صدر انجمن تاجران وچئرمین پریس کلب فورٹ عباس محمد سلیم زاہد سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے کیایہی وجہ ھے کہ آج کا مذھبی طبقہ اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے ایک اور تاریخی غلطی کرنے جا رھاھے۔حالانکہ نہ ماضی میں تحریک نظام مصطفی کا ایجنڈا اسلام تھا اور نہ اب آزادی مارچ بعنوان تحفظ ناموس رسالت کا ایجنڈا اسلام ھے۔
کیونکہ اس آزادی مارچ کا مقصد سابق کرپٹ حکمرانوں کی وکالت اور احتساب سے بچانا ہے ۔مولانا کے ساتھ کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا طبقہ نہیں سوائے مخصوص مذہبی طبقے جن کو مولانا ہمیشہ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اب یہ مذہبی طبقے کو فیصلہ کرناھو گا کہ اسی طرح آلہ کار بن کر مولانا کا ساتھ دینا یا پھر مدارس کے غریب بچوں کے لئے حکومتی اقدامات کا ساتھ دیکر مدارس کے غریب بچوں کو میںن سٹریم میں لانا ھے ۔
وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان روز اول سے آج تک مدارس کے طلباء کے اچھے مستقبل کے لئے کوشاں ہیں۔مذہبی طبقے کو اس موقعے سے فائدہ اٹھانا ھوگا۔





اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں