5

کالم ہمارا فخر ۔۔۔۔ ہمارے اساتذہ از قلم نعیم اختر ربانی

عنوان: ہمارا فخر ۔۔۔۔ ہمارے اساتذہ

از قلم
نعیم اختر ربانی

روئے زمین سے عرش بریں تک نہایت شائستگی اور عمدگی کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ ، قدم بہ قدم رہنمائی کرکے رفعتوں کے مینار تک پہچانے والے، لغزشوں کو معافی کا لبادہ پہنا کر اصلاحی عمل کی تکمیل کی طرف نگاہ رکھنے والے ، ظلمتوں کی تاریک کھائیوں میں گرے پڑے تنکوں کا ہاتھ تھام کر انوارات کی صراطِ مستقیم دکھانے والے ، جہالت کے بدنما داغ کو علم کی تابناکی سے صاف کرنے والے ، اظہار ، اختلاف اور اتفاق جیسی مختلف آراء کا خیر مقدم کرنے والے ، صداقت، شرافت کا مشروب پلانے والے اساتذہ کرام کو لاکھوں سلام کہ جن کے طفیل گمنامی کی دلدل سے نکل کر ناموری کی فہرستوں میں نام شامل ہوا۔ جن کی محبت اور سزا نے دنیائے فانی کے روایتی برتاؤ کا اشارہ دیا۔
اساتذہ کسی قوم کا وہ عظیم سرمایہ ہوتے ہیں کہ جنہیں ہر حال میں آنکھوں کی سیج پر پھولوں اور خوشبوؤں سے سجا کر رکھا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے لیے ” معلم” کا لقب اختیار کیا اور ارشاد فرمایا ” میں استاد بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں” اور جن کے بارے میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے ” جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے تو مجھے بیچ دے چاہے تو آزاد کر دے”
اقوام عالم اپنے محسن اساتذہ کی نگہداشت اور حفاظت کی تیاری امن و جنگ ہر حال میں سب سے اولین فرض سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ جرمنی کا مشہور ” ہٹلر” جب جنگ کے میدان میں کودا تو اپنے عزیز ترین جنرل کی ذمہ داری لگائی کہ تمام اساتذہ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے اور بہر صورت ان کے تعلیم و تعلّم کے سلسلے کو جاری رکھا جائے۔ خلفاء راشدین کے ادوار میں بیت المال سے اساتذہ کے لیے وظائف مقرر کیے گئے تھے تاکہ وہ خوش اسلوبی اور تند دہی سے فرزندان قوم و ملت کی اساس کو مضبوط بنا سکیں۔
اساتذہ ہمارے ملک و قوم کا فخر ہیں ۔جن کے دست و بازو میں نسل نو کی لگام ہے وہ جس رخ پر چاہیں نسل نو کی ہدایت کر دیتے ہیں اس لیے اساتذہ کرام پر ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے نسل کی پرورش اور آبیاری کے لیے اعلیٰ جوہڑ سے پانی بھر کر ان کے دامن میں اگنے والے ننھے پودوں کی نگہداشت کریں اور سینے میں دھڑکنے والے دل اور اس میں سر اٹھانے والی نیم اجسام خواہشات کی تکمیل کے لیے مناسب وقت اور طریقہ متعارف کروائیں تاکہ تکمیلِ خواہشات پر شرمساری کے بجائے خوشی کا تانتا بندھ جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں